صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 266 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 266

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / المائدة ۳ حرمت شرعی نہیں ہے بلکہ مشرکوں کی خود ساختہ ہے۔ بحیرہ وہ جانور (یعنی بکری یا اونٹنی) جس کے کان پھاڑ دیئے گئے ہوں۔ بحر سے الْبُحَيْرَةِ اسم مفعول ہے مُحِرَتْ اُٹھا کے معنی ہی ہیں اس کا کان چیرا گیا۔ زمانہ جاہلیت میں جو اونٹنی دس بچے جنتی، اس کا کان چھید کر اسے کھلا چھوڑ دیتے۔ اس سے سواری وغیرہ کا کام لینا حرام سمجھا جاتا تھا۔' سائبة: دس مادہ بچے جننے کے بعد آزاد کردہ اونٹنی جسے گھاٹ اور چراگاہ سے روکنا ممنوع تھا۔ وصيلة وہ بکری جو نر و مادہ بچے اکٹھا جنے تو اس کا بچہ ذبح نہ کیا جاتا۔ مبادا ایک کے ذبح کرنے سے دوسرے کو تکلیف ہو۔ امام ابن حجر نے ابو عبیدہ کا قول نقل کیا ہے کہ سائبة کی نذر بتوں کے لئے مانی جاتی کہ مثلاً بیماری سے شفا ہو گی یا کوئی اور غرض پوری ہونے پر فلاں بت کے نام کے لئے جانور آزاد کر دے گا۔ جانور کی تخصیص نہ تھی۔ حامہ جس سے دس بچے حاصل کر لئے جائیں تو اس کو بھی آزاد کر دیا جاتا تھا۔ یہ جانور بتوں کی نذر سمجھے جاتے تھے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۵۹، ۳۶۰) ہندؤوں میں بھی سانڈ آزاد کرنے کی رسم اب تک ہے۔ یہ مشرکانہ رسمیں تھیں جو قدیم مشرک اقوام میں بھی پائی جاتی تھیں، جن کی اصلاح اسلام نے کی۔ امام ابن حجر نے بحیرہ وغیرہ آزاد کردہ جانوروں سے متعلق ابو عبیدہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اُن کا دودھ پینا گوشت کھانا اور اُن پر سواری کرنا عورتوں کے لئے حرام ہوتا اور مردوں کے لئے جائز ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۵۹) جیسا کہ اس کا ذکر سورۃ الانعام آیت نمبر ۱۴۰ میں بھی ہے۔ اس باب کے تحت بحیرہ وسائبہ وغیرہ کے ضمن میں دو روایتیں منقول ہیں۔ پہلی روایت کو دو حوالے نقل کر کے مرفوع ثابت کیا گیا ہے۔ دوسری روایت میں عمرو بن عامر لحی سے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس نے ابتدا کی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذک کے مذکور مکاشفہ سے متعلق حضرت عائشہؓ کی روایت کے لئے دیکھئے کتاب العمل في الصلاة، باب ا اروایت نمبر ۱۲۱۲۔ بَاب ١٤ : وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ اور میں ان کا نگر ان تھا جب تک کہ میں ان میں رہا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تُو ہی اُن وَ أَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ کا دیکھنے بھالنے والا تھا اور تو ہر ایک چیز پر (المائدة: ۱۱۸) خود ہی نگر ان ہے۔ ٤٦٢٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۴۶۲۵: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ نے ہمیں بتایا کہ مغیرہ بن نعمان نے ہمیں خبر دی ، المفرادات في غريب القرآن للراغب - بحر ) القرآن المراغة المفرادات في غريب القرآن للراغب- سيب) (المفرادات فى غريب القرآن للراغب - وصل)