صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 264 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 264

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۶۴ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة ٤٦٢٣ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۴۶۲۳ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا، انہوں نے بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ صالح بن کیسان سے ، صالح نے ابن شہاب سے، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ الْبَحِيرَةُ الَّتِي ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی۔يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلَا يَحْلُبُهَا انہوں نے کہا: بحیرہ وہ ( دودھیل جانور ) ہے جس أَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ وَالسَّائِبَةُ كَانُوا کا دودھ معبودانِ باطلہ کے لئے روک لیا جائے اور يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا لوگوں میں سے کوئی بھی اس کو نہ دو ہے اور سائبہ شَيْءٌ قَالَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ وہ جانور ہے جس کو مشرک اپنے معبودوں کی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خاطر چھوڑ دیا کرتے تھے۔اس پر کچھ نہ لا دا جاتا۔رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرِ الْخَزَاعِيَّ يَجُرُّ سعید کہتے تھے: اور حضرت ابوہریرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے قَصْبَهُ فِي النَّارِ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ، وَالْوَصِيلَةُ النَّاقَةُ الْبِكْرُ عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہے۔وہ پہلا شخص تھا جس نے تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الْإِبِلِ بِأُنْثَى ثُمَّ سائبہ جانور چھوڑے تھے اور وصیلہ وہ باکرہ اونٹنی تُشَنِّي بَعْدُ بِأُنْثَى وَكَانُوا يُسَيِّبُونَهُمْ ہے جو پہلا مادہ بچہ جنے پھر اس کے بعد دوبارہ مادہ لِطَوَاغِيتِهِمْ إِنْ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا جنے اور وہ ایسی اونٹنیاں بھی اپنے معبودانِ باطلہ بِالْأُخْرَى لَيْسَ بَيْنَهُمَا ذَكَرٌ، وَالْحَامُ کے لئے چھوڑ دیا کرتے تھے، جب وہ یکے بعد فَحْلُ الْإِبِلِ يَضْرِبُ الصِّرَابَ الْمَعْدُودَ دیگرے دو مادہ بچے بنے جن کے درمیان کوئی نر فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ وَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ نہ ہو اور حام وہ نر اونٹ ہے جو مادہ پر چند گنتی کی وَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ فَلَمْ يُحْمَلُ جتیں کرتا۔جب وہ اپنی جستیں کر چکتا تو اس کو عَلَيْهِ شَيْءٌ وَسَمَّوْهُ الْحَامِيَ۔وَ معبودان باطلہ کے لئے چھوڑ دیتے اور اس کو قَالَ لِي أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ بار برداری سے مستثنیٰ کر دیتے۔پھر اس پر کچھ نہ الزُّهْرِيِّ سَمِعْتُ سَعِيدًا يُخْبِرُهُ لادا جاتا اور اس کا نام حام رکھا جاتا۔اور ابوالیمان بِهَذَا قَالَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ نے مجھ سے کہا: شعیب نے زہری سے روایت عن