صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 263
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۶۲۳ ۶۵ - کتاب التفسير / المائدة انکار ایسی باتوں کی نسبت نہ پوچھا کرو جو اگر تمہارے لئے ظاہر کر دی جائیں تو تم پر ناگوار ہوں اور اگر بوقت تنزیل قرآن ان کی نسبت پوچھو گے تو وہ تمہارے لئے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے خود وہ باتیں نظر انداز کی ہیں اور اللہ غفور و حلیم ہے۔ تم سے پہلے ایک قوم ایسی باتوں کی نسبت سوال کر کر چکی ہے۔ پھر اُنہوں نے اس پر عمل کرنے سے ا کر دیا۔ اس جملہ سے توجہ دلائی گئی ہے کہ سوالات سے اپنے لئے مشکلات نہ پیدا کی جائیں۔ روایت نمبر ۴۶۲۲ میں لفظ استهزاء جو وارد ہوا ہے یہ صورت ابتدا میں تھی لیکن تربیت بہتر ہونے پر صحابہ کرام جس مقام ادب پر کھڑے ہوئے وہ بے نظیر ہے۔ باب ۱۳ مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَابِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامِ ( المائدة : ١٠٤ ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اللہ نے نہ (کسی جانور کو) بحیرہ بنایانہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام وَ إِذْ قَالَ الله (المائدۃ: ۱۱۷) يَقُولُ (اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :) وَ إِذْ قَالَ اللهُ قَالَ اللهُ وَ إِذْ هَا هُنَا صِلَةٌ الْمَائِدَةُ ۔۔۔ تو اس میں قال (جو ماضی کا لفظ ہے اس) أَصْلُهَا مَفْعُولَةٌ كَ عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ كے معنى يَقُولُ ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کہے گا (القارعة : ٨) وَتَطْلِيقَةٍ بَائِنَةٍ، اور ان یہاں صلہ ہے۔ الْمَائِدَةُ اصل میں وَالْمَعْنَى مِيدَ بِهَا صَاحِبُهَا مِنْ خَيْرٍ، مَفْعُوْلَةٌ کے وزن پر ہے (یعنی حَمِيدَةٌ) جیسے مَادَنِي يَمِيدُنِي۔ عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ میں ( رَاضِيَة - مَرْضِيَّة کے معنی میں ہے یعنی پسندیدہ) اور تَطْلِيقَةٍ بَائِنَةٍ سے مراد ایسی طلاق ہے جس میں بغیر نکاح رجوع نہیں۔) اور (مائدہ کے معنی ہیں کہ اس میں ہر قسم کی بھلائی رکھی گئی ہے۔ (کہتے ہیں:) ما دَنِي يَمِيدُنِي - یعنی اس نے مجھ پر احسان کیا اور مجھے کھانے کا سامان دیا۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مُتَوَفِّيكَ اور حضرت ابن عباس نے کہا: مُتَوَفِّيكَ کے معنی ہیں : میں تجھے مارنے والا ہوں۔ (آل عمران : ٥٦ ) مُمِيتُكَ ۔