صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 262
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۶۳ ۶۵ - کتاب التفسير / المائدة يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ اونٹنی گم ہوئی ہوتی، کہتا: میری اونٹنی کہاں ہے ؟ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْلُم (المائدۃ: ۱۰۲) تب اللہ نے اُن کے متعلق یہ آیت نازل کی: اے حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا ۔ مومنو! ( ان ) باتوں کے متعلق سوال نہ (کیا) کرو (جو) اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہارے لیے تکلیف کا موجب بن جائیں۔ یہاں تک کہ آپ نے پوری آیت تلاوت کی۔ تشريح : لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ۔۔۔۔ سوكم ۔۔۔: اس آیت میں یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ بلا ضرورت سوال در سوال کر کے اپنے لئے عملی مشکلات پیدا نہ کی جائیں۔ ورنہ تمہارا پہلی قوموں کا سا حال ہو گا کہ مسائل کا انبار جمع کر دیا گیا اور عمل نہ کر سکیں۔ مذکورہ بالا آیت کا یہی سیاق کلام ہے۔ آیت و إِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزِّلُ الْقُرْآنُ تُبدَ لَكُمْ (المائدة: ۱۰۲) یعنی اور اگر تم ان کے متعلق اس عرصہ میں سوال کرو گے جبکہ قرآن اُتارا جارہا ہے تو تم پر (وہ) ظاہر کر دی جائیں گی۔ حکم کا یہ مفہوم ہے کہ بوقت ضرورت آیات کی تطبیق خود بخود واضح ہوتی رہے گی۔ تنزیل بھی عین تطبیق ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ جب وحی ہو رہی ہو تو اس وقت پوچھ لیا کرو۔ اس کا یہ مفہوم لینا خلاف عقل ہے۔ روایات زیر باب سے جس قسم کے لغو سوالات کی ممانعت کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے ان کے علاوہ امام ترمذی اور امام احمد بن حنبل نے بھی بعض روایات نقل کی ہیں کہ جب آیت وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ (آل عمران: (۹۸) نازل ہوئی یعنی اور اللہ نے لوگوں پر فرض کیا ہے کہ وہ اس گھر کا حج کریں تو صحابہ نے پوچھا کہ ہر سال حج کیا جائے ؟ آپ خاموش رہے ، پھر پوچھا گیا، آپؐ نے فرمایا: نہیں، اگر میں ہاں کہوں تو تم پر واجب ہو جائے گا۔ لے سعید بن منصور شم او ہو ے گا۔ اے سعید بن منصور ہے اور علامہ طبری سے نے بھی اسی قسم کی ممانع ی ممانعت کے تعلق میں بعض سوالات نقل کئے ہیں۔ جن میں بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کی حلت و حرمت کا کا سوال بھی ہے۔ فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۵۷،۳۵۶) مذکورہ بالا آیت کے معا بعد ان اشیاء کی حرمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ سوالات کی نوعیت سے متعلق دیکھئے کتاب العلم ، باب ۲۸- محولہ آیات یہ ہیں: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَ إِنْ تَسْتَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزِّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَا لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوا بِهَا كَفِرِينَ (المائدة : ۱۰۲ ، ۱۰۳) اے دے جو مومن ہو ! ا (سنن الترمذی، ابواب تفسیر القرآن باب ومن سورة المائدة ) (مسند احمد بن حنبل، مسند المکثرین، مسند ابي هريرة ، جزء ۲ صفحه ۵۰۸) التفسير من سنن سعید بن منصور ، سورة المائدة آيت يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ ) (جامع البيان للطبرى، سورة المائدة، آيت يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْلُوا عَنْ أَشْيَاء ، جزء ۹ صفحه ۲۲)