صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 260
صحیح البخاری جلد ۱۰ فِيمَا طَعِمُوا ( المائدة : ٩٤ ) ۔ ۲۶۰ ۶۵ - کتاب التفسير / المائدة شہید ہوئے جبکہ یہ (شراب) اُن کے بیٹوں میں تھی، کہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور (نیز) انہوں نے نیک کام کیے ہیں تو جو کچھ (بھی) وہ کھائیں اُس پر اُنہیں کوئی گناہ نہیں ( ہو گا۔) أطرافه: ٢٤٦٤ ، ٤٦١٧ ، ۵۵۸۰، ۵۵۸۲ ، ٥٥٨٣، ٥٥٨٤ ، ٥٦٠٠، ٥٦٢٢ ، ٧٢٥٣- لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا ۔۔۔۔ اسلامی تشریح ایم سی رو تعلیم کی رو سے گناہ ، کی رو سے گناہ عارضی حالت ہے جو اصلاح پذیر ہے اور : ہے اور نیکی فطرت بشریہ کا طبعی تقاضا ہے۔ جسے عمدہ تربیت کے ذریعہ ترقی دی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ آیت زیر باب میں صراحت ہے۔ پوری آیت یہ ہے: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَ آمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَ أَحْسَنُوا وَ اللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (المائدة: (۹۴) ترجمہ : جو لوگ ایمان لائے ہیں اور (نیز) اُنہوں نے نیک کام کئے ہیں جب وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں پھر تقویٰ ( میں اور ترقی ) کریں اور ایمان لائیں۔ پھر تقویٰ ( میں مزید ترقی) کریں اور احسان کریں۔ تو جو کچھ (بھی) وہ کھائیں۔ اس پر انہیں کوئی گناہ نہیں (ہوگا) اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ روحانی ارتقاء کا آخری معراج احسان ہے۔ جس میں انسانی جو ہر فطرت اپنے کمال کو پہنچ کر حُسنِ یزدانی کی آب و تاب دکھاتا ہے۔ اس سے پہلے جتنے مراحل ہیں وہ تقویٰ کے تحت ہیں۔ پہلے مرحلے کا تعلق نفس امارہ کی حیوانی شہوات و میلانات سوء سے ہے۔ دوسرے مرحلے کا تعلق نفس لو اللہ کی جد وجہد سے ہے۔ تیسرے مرحلے کا تعلق نفس مطمئنہ سے ہے، جس کا آخری نتیجہ روح القدس کے ذریعہ نشو و نما پانے اور احسان کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۱۶ تا ۳۲۲۔ مذکورہ بالا آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مواخذہ سے بچنے کی کڑی شرطیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو عفو ، غفور اور رحیم ہے ، انسان کی ترقی کا دروازہ کھولا ہے۔ اور اسی صفات عفو، غفوریت و رحیمیت پر اسلامی تعلیم مبنی ہے۔ باب ۱۲ : لَا تَسْلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ( المائدة : ١٠٢) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) تم ایسی باتوں کی بابت نہ پوچھو جو اگر تمہارے لئے ظاہر کر دی جائیں، تمہیں تکلیف دیں ٤٦٢١ : حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ ۴۶۲۱: منذر بن ولید بن عبد الرحمن جارودی نے بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَارُودِيُّ حَدَّثَنَا ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ