صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 258 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 258

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵۸ ۶۵ - کتاب التفسير / المائدة الأَنْصَابُ سے مراد قربان گاہیں، استھان اور بتوں کی جگہیں ہیں، جہاں ناپاک کاموں کا ارتکاب ہوتا تھا۔بنی اسرائیل میں بھی ایسے ناپاک کاموں کا ذکر ملتا ہے۔تفصیل کے لیے دیکھئے ۲ سلاطین باب ۱۷: ۱۲ اور باب ۲۱: اتاہے۔ان ابواب میں ذکر ہے کہ ان جگہوں میں الہی احکام کی خلاف ورزی، نفرتی کاموں کا ارتکاب آسمانی فوج کی پرستش، بعل کی پوجا، قال گیری، افسون گری، شگون لینا، جنات کے یاروں، جادو گروں کی پیروی اور کھودی ہوئی مورتوں کی پرستش کی جاتی تھی۔اس قسم کے ناپاک کام رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشیطن سے تعبیر کئے گئے ہیں۔ہمارے زمانے میں قرعہ اندازی اور قمار بازی کے بیسیوں طریقے ایجاد ہو چکے ہیں۔اسلام میں قسمت آزمائی کے ایسے تمام کھیل ممنوع ہیں کہ ان سے علاوہ نقصان مال اور ضیاع وقت کے اخلاق بھی متاثر ہوتے ہیں۔شراب نوشی اور خنزیر خوری وغیرہ کے نتائج کا اندازہ مقصود ہو تو یورپ و امریکہ کے اعداد و شمار اور کوائف پر ایک نظر ڈالنا کافی ہے۔صرف فرانس میں (Alcoholism) مے نوشی سے سالانہ بائیس ہزار اموات، سڑکوں کے حادثات ۴۰ فیصد، جرائم کی وارداتیں ۵۰ فیصد ، تیمارستانوں میں زیر علاج مجنون افراد کی آدھی تعداد وہ ہے جو شراب خوری کی وجہ سے ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔اس کے علاوہ فحاشی، ہم جنسیت اور عصمت فروشی کی کثرت کے اہم اسباب میں سے منشیات کا استعمال ہے اور جریدہ نوائے وقت نے اپنی دیروزہ اشاعت مؤرخہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۱ء میں جو تازہ کوائف وفاقی ادارہ کے ڈائریکٹر ایڈ گرھوا کی سالانہ رپورٹ سے نقل کیے ہیں وہ نہایت بھیانک ہیں۔اس شائع شدہ رپورٹ کی رو سے صرف امریکہ میں ہر ۳۴ منٹ کے بعد جبری عصمت دری اور ہر ۵۸ منٹ کے بعد قتل اور ہر ۳۹ سیکنڈ کے بعد ڈا کہ اور ہر دو منٹ کے بعد کار چرانے کی وارداتیں ہوئیں۔اس سے جرائم کی رفتار اور کثرت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ان تمام عیسائی ممالک میں کم و بیش یہی حال ہے جن میں اسلامی محرمات سے پر ہیز نہیں کیا جاتا۔تورات وانجیل میں بھی دراصل یہ امور حرام قرار دیئے گئے ہیں۔مگر موجودہ عیسائیت کے دجل نے شریعت اور اصول حلال و حرام کو بالائے طاق رکھ دیا ہے اور نہ صرف اپنے لیے جہنم بھر کائی ہے بلکہ سب بنی نوع انسان اس کی لپیٹ میں ہیں۔یہاں تک کہ وہ مسلمان بھی جن کا ذکر اسی کتاب التفسیر ، سورۃ المائدۃ کے آخری باب (۱۵) روایت ۴۶۲۶ میں ہے۔چاہیئے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور وہ قابل رشک پاک نمونہ اطاعت شعاری اپنے سامنے رکھے رکھیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دکھایا، جس کا ذکر روایت نمبر ۴۶۱۷ میں ہے۔یہ سنتے ہی کہ شراب حرام کی گئی ہے شراب کے مٹکے گلی کوچوں میں انڈیلے گئے اور تحقیق کی بات نہیں کی گئی۔کتنا بڑا اعجاز ہے آنحضرت صل الی یکم کی تاثیر قدسی کا۔عرب ذہنیت کی کایا ہی پلٹ دی گئی۔آج کل کے لوگوں کو باور ہو یا نہ ہو۔مگر واقعہ میں ایسا ہی ہوا۔حرمت کے اعلان کے دن مدینہ کی گلی کوچوں میں شراب پانی کی طرح بہہ رہی تھی۔(روایت نمبر ۴۶۲۰)