صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 257
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵۷ ۶۵ کتاب التفسير / المائدة الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ رہے تھے : آقا بعد، اے لوگو ! دیکھو شراب کی وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ۔حرمت کا حکم نازل ہوا اور وہ پانچ چیزوں کی ہوتی ہے۔انگور کی کھجور کی ، شہد کی ، گندم کی اور جو کی أطرافه : ٥٥٨١، ۰۰٨٨، ۵۰۸۹، ۷۳۳۷- اور شراب وہ ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے۔شريح : اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطن۔۔۔۔سوره مائده کے موضوع سے متعلق بتایا جا چکا ہے کہ اس میں دونوں قسم کے مائدہ کی نسبت احکام مذکور ہیں۔محولہ بالا آیت میں شراب، جوا، مشرکوں کی قربان گاہیں اور پانسے کے تیروں سے جو فائیں وغیرہ نکالی جاتی ہیں، یہ سب اشیاء مفاسد و مخرب الاخلاق اور حرام قرار دی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الخَيْرُ وَالْمَيْسِرُ وَ الأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمْ العَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَيْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَ عَنِ الصَّلوةِ ۚ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ ) (المائدة: ۹۲،۹۱) ترجمہ : اے ایماندار و اشراب اور جوا اور محبت اور قرعہ اندازی کے تیر محض ناپاک ( اور ) شیطانی کام ہیں۔اس لیے تم اُن (میں) سے (ہر اک سے) بچو۔تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔شیطان صرف یہ چاہتا ہے کہ تمہارے در میان شراب اور جوئے کے ذریعہ سے عداوت اور کینہ ڈال دے اور اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے۔اب کیا تم ( ان باتوں سے) رُک سکتے ہو۔عنوان باب میں الفاظ الأزلام وغیرہ کی جو شرح حضرت ابن عباس کے حوالہ سے کی گئی ہے ، ابن ابی حاتم سے منقول ہے۔زمانہ جاہلیت میں کام شروع کرنے سے پہلے تیروں سے فال لیتے تھے۔ایک پر افعل (کر) اور دوسرے پر لَا تَفْعَل ( نہ کر ) لکھا ہوتا اور تیسرا تیر خالی ہوتا۔بعض وقت سفید کنکریاں بھی اس غرض کے لئے مستعمل ہوتیں اور اُن پر بھی لفظ الازْلامُ (جمع زَلَعُ ) اطلاق پاتا تھا۔کنکری پر کرنے یا نہ کرنے کی نشاندہی ہوتی۔خالی تیر یا کنکری نکلے تو دوبارہ فال لیتے تھے۔یہ ازلام تین قسم کے تھے۔ایک قسم تین تیروں یا کنکریوں والی، جس سے ہر شخص بطور خود فال نکال سکتا تھا۔دوسری قسم فیصلہ جات کے لئے جو کا ہن یا حاکم کے پاس ہوتے اور تعداد میں سات تیر تھے۔ان میں سے ایک پر لفظ مِنكُم (تم سے) اور دوسرے پر ملصق ( ملا ہوا) اور اسی طرح دیت وغیرہ سے متعلق احکام کی نشاندہی ہوتی اور تیسری قسم جوئے بازی کے تیر ، جو دس عدد تھے۔سات پر لکیروں کے نشان ہوتے اور تین تیر خالی اور اس طریق تمار بازی میں شطر نج تاش وغیرہ کی چالیں اور پتے بازی چلی جاتی تھیں۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۵۱)