صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 5 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 5

صحیح البخاری جلد ۱۰ ♡ ۶۵ - کتاب التفسير / الفاتحة بارے میں ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ بعض کے نزدیک الرحمن اسم غیر مشتق ہے۔ کیونکہ کفار کا یہ قول قرآن مجید میں منقول ہے : قَالُوا وَ مَا الرَّحْمنُ (الفرقان: ٦١) کہ رحمن کیا شے ہے ؟ اور اس کے ان فیوض و برکات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو اُس سے صادر ہوئے ہیں۔ کفار کا یہ اعتراض مانع نہیں ہے کہ یہ نام مشتق ہو۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی اُٹھایا گیا ہے کہ الر حمن اور الرحیم کا ایک ہی مفہوم ہے اور تکرار لفظ بطور تاکید ہے۔ تو اس کا جواب عنوان باب میں استمان“ سے دیا گیا ہے کہ الرحمن اور الرحیم دو الگ الگ نام ہیں۔ الرحمن نام کے معنی میں جو وزن فعلان ہے وسعت ہے۔ یہ صفت مومن و کافر، ذی روح اور غیر ذی روح سب کو شامل رکھتی ہے۔ امام ابن حجر نے تَعُمُّ الْمُؤْمِنَ وَالْكَافِرَ کہہ کر اس معنوی وسعت کی طرف توجہ دلائی ہے اور صفت رحیم کا تعلق مجاہدہ سے ہے ، جو محنت و عمل پر مبنی ہے۔ امام ابن حجر نے الفاظ تَخُصُّ المُؤْمِنَ سے صفت رحیمیت کی اسی خصوصیت کا ذکر کیا ہے۔ یہ صفت صرف مؤمن ہی سے مختص ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۹۴، ۱۹۵) قرآن مجید کی ہر چھوٹی بڑی سورۃ سوائے سورہ توبہ کے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے شروع کی گئی ہے اور ایک حدیث میں ہے: كُلُّ أَمْرِ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَقْطَعُ ۔ ہر کام جو بِسْمِ الله سے شروع نہیں کیا جاتا، بے برکت ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام چھوٹا ہو یا بڑا بسم اللہ سے شروع فرماتے اور آپؐ نے مسلمانوں کو اپنی سنت پر عمل کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ جس طرح رات کے وقت دروازہ بند کرنے، چراغ گل کرنے، مشکیزہ کا منہ باندھنے اور بر تن ڈھانپنے میں سے ہر فعل پر بسم اللہ پڑھنے کا ارشاد نبوی ہے، کے اسی طرح کھانے کے وقت بھی۔ سے آپ کے ارشاد كُل أَحمر کے مطابق انسان کوئی کام بھی صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتا جب تک صفت رحمانیت و صفت رحیمیت کی یادری نہ ہو۔ ایک زمیندار بابرکت کاشت نہیں کر سکتا جب تک صحت مند اعضاء قوی، قابل کاشت زمین اور آلات زراعت نہ رکھتا ہو اور اسے عقل و علم نہ ہو کہ فلاں زمین فلاں قسم کی پیداوار کے لئے فلاں موسم ؟ موسم میں مناسب ہے۔ ہے۔ زمینی یا آسمانی آبپاشی کا انتظام نہ ہو۔ یہ سارے لوازمات اسے بلا معاوضہ عمل عطا ہوئے ہیں۔ سورج اور بادل کا وجود محض صفت رحمانیت کا ظہور ہے۔ ان اسباب رحمانیت سے اسی وقت کام لے گا جب اسے یقین ہو گا کہ اس کی محنت اس کے لئے نتیجہ خیز ہو گی۔ اس یقین کے بغیر اس کا قدم عمل کے لئے نہیں اُٹھ سکتا۔ اگر کوئی شخص کسب معاش کے لئے چوری، ڈاکہ زنی کو وسیلہ بناتا ہے اور وسائل رحمانیت کو ترک کرتا ہے تو گو اس کے لئے وہ عمل کرتا ہے مگر چونکہ اس کی کمائی صفت رحمانیت کے منافی ا۔ (الدر المنثور فى التفسير بالمأثور ، الفاتحة، جزء اول صفحہ ۲۶) ( الجامع الأخلاق الراوي و آداب السامع ، مَا يَبْتَدِئُ بِهِ الْمُسْتَمْلِي مِنَ الْقَوْلِ، جزء ۲ صفحه (۶۹) (صحیح البخاري، كتاب بدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده، روایت نمبر ۳۲۸۰) (صحيح البخارى، كتاب الأشربة، باب تغطية الإناء، روایت نمبر ۵۶۲۳) (صحيح البخارى، كتاب الأطعمة، باب الأكل مما يليه، روایت نمبر ۵۳۷۸)