صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 255 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 255

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵۵ ۶۵ - کتاب التفسير / المائدة تَأْمُرُهُ { يُجِيلُ يُدِيرُ } وَقَدْ أَعْلَمُوا وہ رُک جاتا، اگر اس کو کام کرنے کے لئے کہتے الْقِدَاحَ أَعْلَامًا بِضُرُوبٍ يَسْتَقْسِمُونَ تو وہ کام کرتا جس کے کرنے کی وہ اجازت بِهَا وَفَعَلْتُ مِنْهُ قَسَمْتُ وَالْقُسُومُ دیے۔ ٹیبیلی کے معنی ہیں وہ اسے گھماتا ہے۔ اور اُنہوں نے تیروں پر کئی قسم کے نشان لگائے الْمَصْدَرُ۔ ہوئے تھے، جن کے ذریعہ سے قسمت کا حال دریافت کرتے تھے اور یہ لفظ فَعَلْتُ مِنْهُ کے وزن پر قسمت (استعمال ہوتا) ہے یعنی میں نے (تیروں سے) قسمت معلوم کی اور (اس کا) مصدر قسوم ہے۔ ٤٦١٦ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۴۶۱۶ : اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا محمد بن بشر نے ہمیں خبر دی کہ عبد العزیز بن عمر عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بن عبد العزیز نے ہم سے بیان کیا، اُنہوں نے قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ کہا: نافع نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَزَلَ تَحْرِيمُ عنہما سے روایت ہے۔ اُنہوں نے کہا: جب شراب الْخَمْرِ وَإِنَّ فِي الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ کی حرمت کے بارے میں حکم نازل ہوا تو مدینہ لَخَمْسَةَ أَشْرِبَةِ مَا فِيهَا شَرَابُ الْعِنَبِ میں اس وقت پانچ قسم کی شرابیں تھیں، ان میں انگور کی شراب نہ تھی۔ طرفه ٥٥٧٩ ٤٦١٧ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۴۶۱۷ : یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ کہ ابن علیہ (اسماعیل بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا صُهَيْبٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كه عبد العزیز بن صہیب نے ہم سے بیان کیا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا كَانَ لَنَا خَمْرٌ اُنہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ غَيْرُ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ فرماتے تھے: ہمارے پاس کوئی شراب نہ ہوتی تھی ا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۳۵۰)