صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 254 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 254

صحیح البخاری جلد ۱۰ يح : ۲۵۴ ۲۵ کتاب التفسير / المائدة يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ۔۔۔۔شانِ نزول سے مراد کسی آیت کا کسی واقعہ پر چسپاں کرنا یا اطلاق کرنا ہے اور یہ آیت متعدد واقعات پر چسپاں کی ہے۔حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے کہا: گوشت کھانے پر مجھے شہوت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے میں نے اپنے آپ پر گوشت حرام کر دیا ہے تو آپ نے یہ آیت پڑھی اور اسے منع فرمایا۔اور ابن ابی حاتم نے انہی سے روایت کی ہے کہ مذکورہ بالا آیت کا شان نزول ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے عرض کیا: نَتْرُكُ شَهَوَاتِ الدُّنْيَا وَنَسِيحُ فِي الْأَرْضِ۔ہمارا خیال ہے کہ ہم دنیوی خواہشات ترک کر دیں اور تبلیغ کے لئے زمین میں چکر لگائیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۴۹، ۳۵۰) پوری آیت یہ ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طيبتِ مَا أَحَكَ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (المائدة: ۸۸) ترجمہ : اے ایماندارو! جو کچھ اللہ نے تمہارے لئے حلال قرار دیا ہے اس میں سے پاکیزہ (چیزوں) کو حرام نہ ٹھہراؤ اور (مقررہ) حدود سے آگے نہ نکلو۔اللہ (مقررہ) حدود سے آگے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اس سے اسلام کے فلسفہ حیات پر نہایت لطیف روشنی ڈالی گئی ہے کہ اسلام انسانی وجود میں ودیعت کی گئی تمام طاقتوں اور استعدادوں کے بر محل استعمال کی تعلیم دیتا ہے نیز انعامات کی ناقدری سے روکتا ہے۔باب ۱۰ إِنَّمَا الْخَيْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ (المائدة: (٩١) شراب اور جوا اور استھان اور پانسے کے تیر گندی باتیں ہیں جو شیطان کے کام ہیں وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْأَزْلَامُ اور حضرت ابن عباس نے کہا: آڈ لاھر وہ تیر ہیں (المائدة: ٩١) الْقِدَاحُ يَقْتَسِمُونَ بِهَا جن کے ذریعہ وہ معاملات میں قسمت کا حال في الْأُمُورِ، وَالنُّصْبُ أَنْصَابٌ دریافت کرتے تھے۔اور نُصب سے مراد بتوں کے استھان ہیں جن پر وہ قربانیاں کرتے تھے۔يَذْبَحُونَ عَلَيْهَا، وَقَالَ غَيْرُهُ: الزَّلَمُ اور ان کے سوا دوسرے لوگوں نے کہا: الزلم الْقِدْحُ لَا رِيسَ لَهُ وَهُوَ وَاحِدُ الْأَزْلَام کے معنی ہیں ایسا تیر جس پر کوئی پر نہ ہو، اور یہ وَالِاسْتِقْسَامُ أَنْ يُجِيلَ الْقِدَاحَ ازْلَام کا مفرد ہے اور الاستقسام کے معنی فَإِنْ نَّهَتْهُ انْتَهَى وَإِنْ أَمَرَتْهُ فَعَلَ مَا ہیں تیروں کا پھر انا۔اگر وہ ( تیر ) اس کو روکتے تو (ترمذی ابواب تفسیر القرآن باب و من سورة المائدة) (تفسير القرآن العظيم لابن ابي حاتم سورة المائدة آيت يايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَتِ)