صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 253
صحیح البخاری جلد ۱۰ ما ۲۵۳ ط ۲۵ - کتاب التفسير / المائدة لَا أَرَى يَمِينًا أُرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا : لَا أَرَى كے معنی ہیں لا أَعْتَقِدُ جبکہ اُری کے معنی ہیں أَظُنُ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۴۹) الفاظ کا یہی فرق ملحوظ رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے۔لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِالتَّغُونَ أَيْمَانِكُمْ وَ لكِنْ يُؤَاخِذْ كُمْ بِمَا عَقَدْ تُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتْةٌ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسْكِيْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كسوتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا ايْمَانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُم ابْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (المائدة: ٩٠) ترجمہ: تمہاری قسموں میں سے لغو (قسموں) پر اللہ تمہیں سزا نہیں دے گا۔بلکہ تمہارے پکی قسمیں کھانے (اور پھر توڑ دینے ) پر تمہیں سزا دے گا۔پس اس (کے توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو متوسط ( درجہ کا ) کھانا کھلانا ہے۔(ایسا کھانا) جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔یا ان کا لباس یا ایک غلام کی) گردن کا آزاد کرنا۔پھر جسے (یہ بھی) میسر نہ ہو تو (اس پر) تین دن کے روزے (واجب) ہیں۔جب تم قسمیں کھاؤ ( اور پھر انہیں توڑ دو) تو یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے اور تم اپنی قسموں کی حفاظت (کیا) کرو۔اللہ اپنی آیتوں کو تمہارے لئے اسی طرح بیان کرتا ہے تا کہ تم شکر گزار بنو۔بَاب :٩ : لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ (المائدة : (۸۸) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اُن پاکیزہ چیزوں کو حرام مت قرار دو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ٤٦١٥ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ :۴۶۱۵ عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسِ خالد بن عبد اللہ الطحان) نے ہمیں بتایا، انہوں اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نے اسماعیل بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے عَنْ عَبْدِ الله رَضِيَ قیس بن ابی حازم ) سے، قیس نے حضرت نَغْرُو مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا أَلَا نَخْتَصِي اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ فَرَخَّصَ لَنَا بَعْدَ ذَلِكَ غزوہ میں نکلا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالقَوْبِ ثُمَّ قَرَأَ عورتیں نہ ہوتیں۔ہم نے کہا: کیا ہم اپنے تئیں يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَتِ ما خصی نہ کر ڈالیں، تو آپ نے ہمیں اس سے روکا۔پھر اس کے بعد آپ نے ہم کو اجازت دی کہ ہم احَلَ اللهُ لَكُمْ (المائدة: ۸۸)۔کپڑا دے کر کسی عورت سے شادی کر لیں اور یہ اطرافه: ۵۰۷۱، ۵۰۷۵ آیت پڑھی: اے ایماندارو! جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے اس میں سے پاکیزہ (چیزوں) کو حرام نہ ٹھہراؤ۔