صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 252 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 252

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵۲ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة بَاب : لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغُونِي أَيْمَانِكُمْ (المائدة: ٩٠) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اللہ تمہاری قسموں میں جو لغو ہے اس پر تم سے مواخذہ نہیں کرتا ٤٦١٣: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ :۴۶۱۳ علی بن سلمہ نے ہمیں بتایا کہ مالک بن حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ سُعَیر نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ) نے عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ہمیں بتایا، اُنہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَا يُؤَاخِذُ كُمُ اللهُ باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آیت لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِالتَّغُونَ أَيْمَانِكُمْ باللغو في ايْمَانِكُمُ (المائدة: ٩٠) فِي یعنی اللہ تمہاری قسموں میں جو لغو ہے اس پر تم قَوْلِ الرَّجُلِ لَا وَاللهِ وَبَلَى وَاللهِ۔طرفه: ٦٦٦٣ - عَنْهَا سے مواخذہ نہیں کرتا“ آدمی کے تکیہ کلام سے متعلق نازل کی گئی ہے (جو یہ کہتا ہے: اللہ کی قسم نہیں۔اللہ کی قسم ہر گز نہیں۔۔٤٦١٤: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي :۴۶۱۴ احمد بن ابی رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ نضر بن شمیل) نے ہمیں بتایا، ہشام بن عروہ) خْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے باپ أَنَّ أَبَاهَا كَانَ لَا يَحْنَتُ فِي نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ كَفَّارَةَ الْيَمِين ہوئے مجھے بتایا کہ اُن کے والد (حضرت ابو بکر) يَمِينٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لَا أَرَى يَمِينًا أُرَى اپنی کوئی قسم نہیں توڑتے تھے ، آخر جب اللہ نے غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا قَبِلْتُ رُحْصَةَ قسم کے کفارے کی بابت حکم نازل کیا تو حضرت ابو بکر فرمانے لگے: میں جب بھی کوئی ایسی قسم اللهِ وَفَعَلْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ۔دیکھوں کہ اس کے سوا (دوسری قسم) میری سمجھ طرفه: ٦٦٢١ - میں اس سے بہتر ہو تو ضرور اللہ کی اجازت کو قبول کرتا ہوں اور وہی بات کرتا ہوں جو بہتر ہوتی ہے۔تشریح: لا لا يُؤَاخِذُ كُمُ اللهُ بِاللَّغُوفِي ايْمَانِكُم۔۔۔: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللغو کا مفہوم واضح فرما دیا ہے کہ بلاضرورت اور بے محل بات لغو ہے۔