صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 251
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵۱ ۶۵- کتاب التفسير المائدة میں مذکور ہے۔اس باب میں دیت و معاوضہ سے متعلق بھی احکام ہیں وہ دیکھے جائیں۔کتاب احبار میں ہے:۔الغرض جو کوئی کسی چوپائے کو مار ڈالے وہ اس کا معاوضہ دے۔پر انسان کا قاتل جان سے مارا جائے۔تم ایک ہی طرح کا قانون دیسی اور پر دیسی دونوں کے لئے رکھنا۔“ اخبار، باب ۲۱:۲۴، ۲۲) بَاب : يَايُّهَا الرَّسُولُ بَلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ (المائدة: ٦٨) اے رسول! تیرے رب کی طرف سے جو ( کلام بھی) تجھ پر اُتارا گیا ہے اُسے (لوگوں تک پہنچا رَضِيَ ٤٦١٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۴۶۱۲ محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَن کیا کہ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا، انہوں نے الشَّعْبِيِّ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ إِسماعيل بن ابی خالد ) سے، اسماعیل نے (عامر) اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ شعر سے، شعبی نے مسروق سے، مسروق نے أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَقَدْ نے فرمایا: جو تم سے یہ بیان کرے کہ محمد صلی اللہ كَذَبَ وَاللهُ يَقُولُ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَيِّغ عليه وسلم نے اُس کلام سے جو آپ پر نازل کیا گیا کچھ چھپایا تھا تو یقیناً اُس نے جھوٹ کہا، اور۔مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ (المائدة : ٦٨) الآيَةَ۔اللہ فرماتا ہے: اے رسول! تیرے رب کی طرف سے جو ( کلام بھی) تجھ پر اُتارا گیا ہے اُسے (لوگوں تک ) پہنچا۔أطرافه : ۳٢٣٤ ، ۳۲۳۵، ۱۸۵۵، ۷۳۸۰، ۷۵۳۱- تشریح ايُّهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبّك۔۔۔۔زیر باب روايت كتاب التفسير، سورۃ النجم روایت نمبر ۲۸۵۵ میں پوری درج ہے۔یہاں اس کا ایک حصہ معنونہ آیت کے تعلق میں منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض رسالت کی ادائیگی میں اخفاء سے کام نہیں لیا اور آپ اس آیت میں مخاطب و مامور ہیں کہ تبلیغ حق سے متعلقہ کو تاہی ہوئی تو پیغام رسانی کا جو حق ہے وہ ادانہ ہو گا۔پوری آیت یہ ہے: يَاأَيُّهَا الرَّسُولُ بَنِغَ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَيْكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلُ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إنَّ اللهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الكَفِرِينَ ( المائدة : ۶۸) ترجمہ : اے رسول! تیرے رب کی طرف سے جو (کلام بھی) تجھ پر اتارا گیا ہے اُسے (لوگوں تک پہنچا اور اگر تو نے (ایسا) نہ کیا تو (گویا) تو نے اس کا پیغام ( بالکل) نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں (کے حملوں) سے محفوظ رکھے گا۔اللہ کا فرلوگوں کو ہر گز ( کامیابی کی راہ نہیں دکھائے گا۔