صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 250 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 250

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵۰ ۲۵ - کتاب التفسير / المائدة وَهْيَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اُنہوں نے کہا: مِنَ الْأَنْصَارِ فَطَلَبَ الْقَوْمُ الْقِصَاصَ ربیع نے جو کہ حضرت انس بن مالک کی پھوپھی فَأَتَوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ تھیں ایک انصاری لڑکی کا دانت توڑ ڈالا۔لڑکی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ والوں نے قصاص کا مطالبہ کیا اور نبی صلی اللہ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُ أَنَسِ بْنِ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مَالِكٍ لَا وَاللهِ لَا تُكْسَرُ سِتْهَا يَا رَسُولَ قصاص کا حکم دیا۔حضرت انس بن نضر نے جو اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس بن مالک کے چچا تھے کہا: یا رسول اللہ! وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللهِ الْقِصَاصُ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کا دانت نہیں توڑا فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الْأَرْضَ فَقَالَ جائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انس! اللہ کی کتاب تو قصاص ہی کا حکم دیتی ہے۔إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَّوْ أَقْسَمَ عَلَى پھر وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہوں نے دیت قبول کر لی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اگر اللهِ لَأَبَرَّهُ۔اللہ پر توکل کر کے ) قسم کھا لیں تو وہ ( ان کی ) وہ اطرافه : ٢٧٠٣، ٢٨٠٦، -٤٤٩٩، ٤٥٠٠، ٦٨٩٤ قسم ضرور پوری کر دے۔تشریح : وَالْجُرُوحَ قصاص۔۔۔۔پوری آیت یہ ہے: وَ كَتَبْنَاعَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصُ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَارَةٌ لَهُ وَ مَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُوتِيكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (المائدة: ۴۶) ترجمه: اور ہم نے اس (تورات) میں ان پر فرض کیا تھا کہ جان کے بدلہ میں جان اور آنکھ کے بدلہ میں آنکھ اور ناک کے بدلہ میں ناک اور کان کے بدلہ میں کان اور دانت کے بدلہ میں دانت اور نیز (زخموں کے بدلہ میں زخم برابر کا بدلہ ہیں۔مگر جو شخص (اپنے) اس (حق) کو چھوڑ دے تو (اس کا یہ فعل) اس کے لیے گناہ کی معافی کا ذریعہ ہو جائے گا اور جو (لوگ) اس (کلام) کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی (حقیقی) ظالم ہیں۔روایت زیر باب سے آیت کا مفہوم واضح کیا گیا ہے کہ زخموں کا قصاص بصورت معاوضہ طرفین کی رضامندی ہی سے جائز ہو سکتا ہے۔مندرجہ بالا آیت میں جس حکم قصاص کا ذکر کیا گیا ہے وہ کتاب خروج باب ۲۱: ۲۳ تا ۲۵