صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 249
صحيح البخاری جلد ۱۰ هَذَا فِيكُمْ وَ مِثْلُ هَذَا۔۲۴۹ ۶۵ کتاب التفسير / المائدة جھوٹا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: حضرت انس نے ہم سے ایسا ہی بیان کیا ہے۔کہتے تھے:۔پھر عنبہ کہنے لگے: اے شام والو! تم ہمیشہ ہی اچھے رہو گے، جب تک کہ یہ اور اس جیسے تم میں باقی رہیں گے۔اطرافه ۲۳۳، ۱۵۰۱، ۳۰۱۸، ۱۹۲، ٤۱۹۳، ٥٦٨٥، ٥٦٨٦، ٥۷۲۷، ٦٨٠٢، ٦٨٠٣، ٦٨٠٤، -٦٨٠٥، ٦٨٩٩ ریح:۔إِنَّمَا جَزَوا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ۔۔۔: لفظ يُحَارِبُونَ مُحَارَبَةٌ سے ہے یعنی ایک دوسرے سے جنگ کرنا۔عنوان باب میں مُحَارَبَةٌ سے انکار کا مفہوم سعید بن جبیر اور حسن بصری سے مروی ہے اور جمہور نے الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ سے قطاع الطريق، لٹیرے، قاتل اور فتنہ و فساد بر پا کرنے والے مراد لئے ہیں۔قسامہ جس کا ذکر روایت میں وارد ہوا ہے ایسے مقتول کی دیت کو کہتے ہیں جس کے قاتل کا پتہ نہ چلے اور جائے وقوع سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشترکہ طور پر ڈالی جاتی ہے۔اس تعلق میں کتاب الديات، باب القسامة بھی دیکھئے۔روایت ۴۶۱۰ میں مندرجہ واقعہ نے آیت کا مفہوم واضح کر دیا اور ابو قلابہ کا جواب بھی واضح ہے کہ اسلام میں اختلاف دین کی وجہ سے قتل جائز نہیں۔معنونہ آیت پوری یہ ہے: انما جَزْوا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَونَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَ اَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزَى فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔(المائدة: ۳۴) ترجمہ : جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور فساد کی غرض سے ملک میں (جنگ کی آگ بھڑ کانے کے لئے ) دوڑتے (پھرتے) ہیں ان کی مناسب سزا یہی ہے کہ ان میں سے ایک ایک کو قتل کیا جائے یا صلیب پر لٹکا کر مارا جائے یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالفت کی وجہ سے کاٹ دیئے جائیں یا اُنہیں ملک سے نکال دیا جائے۔(اگر) یہ سزا ملتی تو ) اُن کے لئے دنیا میں رسوائی کا موجب) ہوتی اور آخرت میں بھی اُن کے لئے ( بہت بڑا ) عذاب ( مقدر) ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے درگزر سے کام لیا ہے اور اپنے رسول کو قطعی حکم نہیں دیا کہ فورا اس حکم پر عمل کرنا شروع کر دے۔بَاب ٦ : وَالْجُرُوحَ قِصَاصُ (المائدة : ٤٦) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) یعنی زخموں کا بدلہ لیا جائے ٤٦١١: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ۴۶۱۱ محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ مروان بن معاویہ) فزاری نے ہمیں بتایا، اللهُ عَنْهُ قَالَ كَسَرَتِ الرُّبَعُ اُنہوں نے حمید (طویل) سے، حمید نے حضرت رَضِيَ