صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 248
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۴۸ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة علیہ وسلم سے جنگ کرے۔عنبہ (بن سعید) نے فَقَالَ مَا تَقُولُ يَا عَبْدَ اللهِ عبد العزیز نے ابو قلابہ کو مڑ کر دیکھا اور وہ ان کی بْنَ زَيْدٍ أَوْ قَالَ مَا تَقُولُ یا پیٹھ کے پیچھے تھے ، کہنے لگے : عبد اللہ بن زید آپ أَبَا قِلَابَةَ قُلْتُ مَا عَلِمْتُ نَفْسًا کیا کہتے ہیں؟ یا کہا: ابو قلابہ آپ کیا کہتے ہیں؟ میں حَلَّ قَتْلُهَا فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا رَجُلٌ نے کہا: مجھے کسی ایسے نفس کی نسبت علم نہیں جس کا زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا مارڈالتا اسلام میں جائز ہوا ہو۔سوائے اس شخص کے جو شادی کرنے کے بعد زنا کرے یا نا حق کسی بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ نفس کو مار ڈالے، یا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ بِكَذَا وَكَذَا قُلْتُ إِيَّايَ یہ سن کر کہا: حضرت انس نے ہم سے ایسا ایسا بیان حَدَّثَ أَنَسٌ قَالَ قَدِمَ قَوْمٌ عَلَى کیا ہے۔میں نے کہا: مجھ سے بھی حضرت انسؓ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمُوهُ نے ایسا ہی بیان کیا۔انہوں نے کہا: کچھ لوگ فَقَالُوا قَدْ اسْتَوْحَمْنَا هَذِهِ الْأَرْضَ في عَلى الم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ فَقَالَ هَذِهِ نَعَمْ لَنَا تَخْرُجُ لِتَرْعَى سے گفتگو کی اور کہنے لگے: ہم نے اس زمین کی فَاخْرُجُوا فِيهَا فَاشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا آب و ہوا ناموافق پائی ہے۔آپ نے فرمایا: یہ وَأَبْوَالِهَا فَخَرَجُوا فِيهَا فَشَرِبُوا ہمارے اونٹ ہیں جو چرنے کے لیے باہر جارہے مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَائِهَا وَاسْتَصَحُوا ہیں تم بھی ان کے ساتھ جاؤ اور ان کا دودھ اور وَمَالُوا عَلَى الرَّاعِي فَقَتَلُوهُ وَاطَّرَدُوا پیشاب پیو۔چنانچہ وہ ان کے ساتھ چلے گئے۔اُن کا پیشاب اور دودھ پیا اور تندرست ہو گئے۔پھر وہ النَّعَمَ فَمَا يُسْتَبْطَأُ مِنْ هَؤُلَاءِ قَتَلُوا النَّفْسَ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَخَوَّفُوا ہانک کر لے گئے۔تو ایسے لوگوں کی سزا میں کیا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نال ہو سکتا ہے جنہوں نے ایک جان کا خون کیا فَقَالَ سُبْحَانَ اللهِ فَقُلْتُ تَتَّهِمُنِي اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی اور رسول قَالَ حَدَّثَنَا بِهَذَا أَنَسٌ قَالَ وَقَالَ يَا الله صلی اللہ علیہ وسلم کو خوف زدہ کرنا چاہا۔عنبہ أَهْلَ كَذَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرِ مَا نے یہ سن کر کہا: سبحان اللہ۔میں نے کہا: تم مجھے چرواہے پر پل پڑے اور اسے مارڈالا اور اونٹ