صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 247
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۴ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة اس (ملک) میں یقیناً ایک سرکش قوم ( رہتی ) ہے اور جب تک وہ (لوگ) اس میں سے نہ نکل جائیں ہم اس میں ہرگز ہرگز داخل نہ ہوں گے۔ہاں اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم یقینا دا خل ہو جائیں گے۔بنی اسرائیل کے مذکورہ بالا رویہ کے بالمقابل صحابہ کرائم کا وہ رویہ ملاحظہ ہو۔جس کی ترجمانی حضرت مقداد بن اسوڈ نے کی۔رضوان الله علیهم اجمعین۔کفار کی طرف سے جنگ میں جوں جوں شدت بڑھتی گئی توں توں صحابہ کرام کی قوت مقابلہ اور جانفشانی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔صحابہ کی یہ فدائیت کتاب المغازی کے مطالعہ سے عیاں ہے۔روایت نمبر ۴۶۰۹ کے آخر میں وکیع کی سند کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ اشجعی کی سند میں مرسل ہونے کا شائبہ ہے۔امام احمد بن حنبل - اور اسحاق نے وسیع کی روایت اپنی مسندوں میں موصولاً نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۴۶) بابه : إِنَّمَا جَزَوا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَونَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا إِلَى قَوْلِهِ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ (المائدة: ٣٤) جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور ملک میں فساد کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں ان کی سزا تو یہ ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا صلیب دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں ملک سے نکال دیا جائے اللہ سے جنگ کرنے سے مراد اُس کا انکار کرنا ہے۔الْمُحَارَبَةُ لِلَّهِ الْكُفْرُ بِهِ۔٤٦١٠: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۴۶۱۰ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ کیا کہ محمد بن عبد اللہ انصاری نے ہمیں بتایا: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمَانُ (عبد الله بن عون نے ہم سے بیان کیا، کہا: أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي ابوقلابہ کے آزاد کردہ غلام سلمان ابور جاء نے مجھے بتایا کہ ابو قلابہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت نے (قسامۃ کا ذکر کیا اور اُنہوں نے کچھ کہا۔عَبْدِ الْعَزِيزِ فَذَكَرُوا وَذَكَرُوا فَقَالُوا قِلَابَةَ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عمر بن عبد العزیز کے پیچھے بیٹھے تھے۔لوگوں وَقَالُوا قَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ فَالْتَفَتَ پھر اُنہوں نے کچھ کہا اور وہ بولے: خلفاء نے إِلَى أَبِي قِلَابَةَ وَهُوَ خَلْفَ ظَهْرِهِ بھی قسامہ میں قصاص لیا ہے۔حضرت عمر بن (مسند أحمد بن حنبل، مسند الكوفيين، حدیث طارق بن شهاب ، جزء ۴ صفحه ۳۱۴)