صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 4 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 4

صحیح البخاری جلد ۱۰ لام ۶۵ - کتاب التفسير / الفاتحة أُصَلِّي فَقَالَ أَلَمْ يَقُل اللهُ: اسْتَجِيبُوا میں نے کہا: یارسول اللہ ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ اِذَا دَعَاكُمُ (الأنفال : ٢٥) آپ نے فرمایا: کیا اللہ نے نہیں فرمایا: اللہ اور اس ثُمَّ قَالَ لِي لَأَعَلِمَنَّكَ سُوْرَةٌ هِيَ کے رسول کو جواب دو جب وہ تمہیں بلائیں۔پھر أَعْظَمُ السُّوَرِ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ آپ نے مجھ سے فرمایا: پیشتر اس کے کہ مسجد سے نکلو، میں تمہیں ایک ایسی سورۃ کا علم دیتا ہوں جو تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي قرآن کی تمام سورتوں میں اپنی عظمت میں بڑھ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ قُلْتُ لَهُ أَلَمْ کر ہے۔پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا۔جب آپ تَقُلْ لَأُعَلَمَنَّكَ سُوْرَةً هِيَ أَعْظَمُ نے (مسجد سے) نکلنے کا ارادہ کیا، میں نے آپ سُوْرَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ سے کہا: کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا، میں تمہیں O العلمينَ (الفاتحة : ٢) هِيَ السَّبْعُ ایسی سورۃ کا علم دوں گا جو قرآن کی تمام سورتوں الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي میں اپنی عظمت میں بڑھ کر ہے ؟ آپ نے فرمایا: الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔یہی سبع مثانی اور قرآنِ عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔أُوتيته۔أطرافه : ٤٦٤٧ ، ٤٧٠٣ ٥٠٠٦ تشريح الرَّحْمنِ الرَّحِيم : اسْمانِ مِنَ الرَّحمة رحمن اور رحیم اسماء الہیہ میں سے دو صفاتی نام ہیں، جو مصدر رحمہ سے مشتق ہیں۔ایک باب فَعْلان کے وزن پر ہے اور دوسرا فعیل کے مشتق وزن پر۔عربی زبان میں ابواب میں سے ہر باب کی باعتبار معانی کچھ خصوصیات ہیں، جو ایک ہی مصدر سے ہونے کے باوجود ابواب کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔عنوانِ باب میں اس امر کا ذکر کہ الرَّحِيمُ وَالرَّاحِم (بمعنی واحِدٍ) ایک ہی معنوں میں ہیں، بلحاظ نفس اشتقاق اور فعل کے تو صحیح ہے کہ دونوں کے معنی ہیں رحم کرنے والا۔لیکن آلر ارحم اسم فاعل ہے جو عارضی فعل کا مفہوم دیتا ہے۔ایک دفعہ رحم کرنے والا را رحم کہلائے گا۔مگر جس سے رحمت کا ظہور بار بار ہو وہ نہ صرف راحم ہو گا بلکہ اپنے دائگی وصف کی رو سے رحیم ہو گا۔وزن فَعِیل اوزان مبالغہ میں سے ہے۔فعیل کے معنی میں تکرارو دوام کا وصف پایا جاتا ہے۔رحیم میں صیغہ راجم کے معنی سے بڑھ کر معنی پائے جاتے ہیں۔امام ابن حجر نے یہ فرق بیان کیا ہے۔امام بخاری نے فقرہ بمعنى وَاحِدٍ سے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ رحیم بروزن فَعِیل، فاعل کے معنوں میں ہے نہ کہ مفعول کے معنوں میں۔جیسے قتل سے قتیل بمعنی مقتولہ کیونکہ جس پر رحم کیا جائے کبھی اسے بھی رحیم کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں مرحوم۔امام بخاری کو دونوں ناموں کے مصدر رحمہ سے مشتق ہونے کے