صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 246
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ کتاب التفسير / المائدة أَنَّ الْمِقْدَادَ قَالَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله ایسا معلوم ہوا کہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا غم جاتا رہا۔اس حدیث کو وکیع نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔طرفه ٣٩٥٢۔وو بھی بیان کیا۔اُنہوں نے سفیان ثوری) سے، سفیان نے مخارق سے، مخارق نے حضرت طارق سے روایت کی کہ حضرت مقداڈ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا۔فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هُهُنَا قَعِدُونَ۔۔۔: اس آیت میں بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس کا ذکر تورات کی کتاب گنتی باب ۱۳ اور باب ۱۴ میں ملاحظہ ہو۔لکھا ہے: وہ کہنے لگے کہ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ اُن لوگوں پر حملہ کریں۔کیونکہ وہ ہم سے زیادہ زور آور ہیں۔اور یہ کہا کہ وہ ایک ایسا ملک ہے جو اپنے باشندوں کو کھا جاتا ہے اور وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب بڑے قد آور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق ( عمالقہ) کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے بڑے ہوتے ہیں اور ایسے ہی اُن کی نگاہ میں تھے۔تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی اور وہ لوگ اس رات روتے ہی رہے اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی: ہائے کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے، یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے۔خداوند کیوں ہم کو اس ملک ( کنعان) میں لے جاکر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے۔“ (گفتی باب ۳۱:۱۳ تا ۳۳، باب ۱:۱۴ تا ۳) معنونہ آیت پوری یہ ہے: قَالُوا مُوسَى إِنَّا لَنْ تَدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا ههنا قعدون (المائدۃ: ۲۵) ترجمہ : اُنہوں نے کہا (کہ) اے موسیٰ ! جب تک وہ (لوگ) اس میں ہیں ہم اس زمین میں کبھی بھی داخل نہ ہوں گے۔اس لیے تو اور تیرارب (دونوں) جاؤ اور (اُن سے ) جنگ کرو۔ہم تو بہر حال اسی جگہ بیٹھے رہیں گے۔اس سے ماقبل آیت میں ہے: قَالُوا مُوسَی اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ وَ إِنَّا لَنْ تَدْخُلَهَا حَتَّى يخرجوا منها مِنْهَا ۚ فَإِن يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَخِلُونَ) (المائدۃ:۲۳) ترجمہ : انہوں نے (جواب میں ) کہا کہ اے موسیٰ وووو