صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 245
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۴۵ ۶۵ - کتاب التفسير / المائدة ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَمَّا تَغَشْهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا (الاعراف: ۱۹۰) - أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ (البقرة : ۱۸۸) ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۴۴، ۳۴۵) باب ٤ : فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلاً إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ (المائدة : ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) تو اور تیرارب جاؤ، دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں (٢٥) ٤٦٠٩ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۴۶۰۹: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل إِسْرَائِيلُ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقِ نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے مخارق سے ، مخارق بْنِ شِهَابٍ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ نے حضرت طارق بن شہاب سے روایت کی کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ مِنَ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا۔ الْمِقْدَادِ ۔ اُنہوں نے کہا: میں اس وقت موجود تھا جب حضرت مقداد بن اسود) نے وَ حَدَّثَنِي حَمْدَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا اور حمد ان بن عمر نے مجھے بتایا کہ ابو نصر ( ہاشم بن أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ قاسم نے ہم سے بیان کیا، (کہا: عبید اللہ بن سُفْيَانَ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقٍ عَنْ عبید الرحمن) اشجعی نے ہمیں بتایا، انہوں نے عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ الْمِقْدَادُ يَوْمَ بَدْرٍ سفیان (ثوری) سے ، سفیان نے مخارق ( بن خلیفہ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَا تَقُولُ لَكَ كَمَا بن جابر ) سے، مخارق نے حضرت طارق(بن قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى فَاذْهَبْ شباب) انْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ مورة سے، حضرت طار طارق نے حضرت عبد الله (بن مسعود) سے روایت کی ، انہوں نے کہا: مقداد بن اسود) نے جنگ بدر کے دن کہا: (المائدة: ٢٥) وَلَكِنِ امْضِ وَنَحْنُ یا رسول اللہ ! ہم آپ سے نہیں کہیں گے جیسا کہ مَعَكَ فَكَأَنَّهُ سُرِّيَ عَنْ رَّسُولِ اللهِ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ جا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ رَوَاهُ وَكِيعٌ تُو اور تیرا رب دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُّخَارِقٍ عَنْ طَارِقٍ آپؐ چلیے اور ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ سنتے ہی ا ترجمه از تفسیر صغیر : ” پس جب وہ اُسے ڈھانپ لیتا ہے تو وہ خفیف سا بوجھ اُٹھا لیتی ہے۔“ 85 ترجمه از تفسیر صغیر: تمہیں روزہ ر "تمہیں روزہ رکھنے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانے کی اجازت ہے۔“ "