صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 244
صحیح البخاری جلد ۱۰ هم نهم ۲ ۶۵ - کتاب التفسير / المائدة سوا کسی اور بستی کی طرف کر دیتا ہوں۔قرآت ولا آمنين البيت جمہور کی ہے۔البیت منصوب ہے بوجہ آمین (صیغہ اسم فاعل مذکر جمع) کا مفعول ہونے کے۔اعمش نے نون حذف کر کے اسے مضاف پڑھا ہے۔یعنی ولا اٹھی الْبَيْتِ أَي عَامِدِي الْبَيْتِ عنوانِ باب میں قرآت کی تصحیح مد نظر ہے۔اسی طرح قرآت لمستھ کی۔علماء کو فہ نے کمسشفہ پڑھا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۲۴، ۳۴۵) حضرت ابن عباس کے نزدیک الفاظ المُلَامَسَه وَ الْمَسْ وَالدُّخُول والافضاء بطور کنایہ نکاح کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔اس کے لئے مندرجہ ذیل آیات کے حوالے دیئے گئے ہیں۔1) وَإِنْ كُنْتُمْ مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ اَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَابِطِ أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاء فَتَيَمَّمُوا صَعِيدً ا طَيْبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ (المائدة: ) ترجمہ: اور اگر تم بیمار (ہو) یاسفر (کی حالت میں ہو (اور تم جنبی ہو) یا تم میں سے کوئی (شخص) جائے ضرور سے آئے اور تم نے عورتوں سے مباشرت بھی کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اس سے (کچھ مٹی لے کر) اپنے مونہوں اور اپنے ہاتھوں کو ملو۔مذکورہ بالا لفظ سورة النساء آیت نمبر ۴۴ میں بھی آیا ہے۔لا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَ اَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَ مَتَّعُوهُنَّ عَلَى الموسع قَدَرَةً وَعَلَى الْمُقْرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُونِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ (البقرة: ۲۳۷) ترجمہ: تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو اس وقت بھی طلاق دے دو جبکہ تم نے ان کو چھوا تک نہ ہو یا مہر نہ مقرر کیا ہو اور ( چاہیے کہ اس صورت میں) تم انہیں مناسب طور پر کچھ سامان دے دو۔( یہ امر ) دولت مند پر اس کی طاقت کے مطابق لازم ہے) اور نادار پر اس کی طاقت کے مطابق۔(ہم نے ایسا کرنا) نیکو کاروں پر واجب (کر دیا) ہے۔ا شمند (٣) وَأَقَهُتُكُمُ الَّتِي اَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَتَكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَ أَمَهُتُ نِسَابِكُمْ وَ رَبِّ بِبُكُمُ الَّتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَا بِكُمُ الَّتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمُ (النساء:۲۴) ترجمہ : اور تمہاری (رضاعی) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعی بہنیں اور تمہاری ساسیں اور تمہاری وہ سوتیلی لڑکیاں جو تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تم خلوت کر چکے ہو اور وہ تمہارے گھروں میں پلتی ہوں تم پر حرام کی گئی ہیں لیکن اگر تم نے ان ( بیویوں) سے خلوت نہ کی ہو تو ( اُن کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) تم پر کوئی گناہ نہیں۔وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ وَ اَخَذَنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا (النساء : ٢٢) ترجمہ : اور تم اُس (مال) کو کس طرح لے سکتے ہو جبکہ تم آپس میں مل چکے ہو اور وہ (بیویاں) تم سے ایک مضبوط عہد لے چکی ہیں۔اسماعیل قاضی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی مذکورہ بالا شرح الفاظ بسند مجاہد و عکرمہ نقل کی ہے۔نیز عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس سے الفاظ العشيات، الرفت، اور انجماع کے معانی بھی نکاح بیان کیے الرَّفَثُ