صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 243 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 243

صحیح البخاری جلد ۱۰ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمتُم إِلَى الصّلوة سے بہت درد ہوا۔پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ (المائدة: ٧) الآيَة، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ علیہ وسلم جاگے اور صبح کا وقت ہو گیا۔پانی کی حُضَيْرٍ لَقَدْ بَارَكَ اللهُ لِلنَّاسِ فِيكُمْ يَا تلاش کی گئی نہ ملا۔پھر یہ آیت نازل ہوئی: اے آلَ أَبِي بَكْرٍ مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَرَكَةً لَهُمْ۔ایماندارو! جب تم نماز کے لیے اٹھو۔حضرت اُسید بن حضیر بولے: اے ابو بکر کے خاندان ! اللہ نے تمہاری وجہ سے لوگوں کو بہت برکت دی ہے۔تم تو ان کے لئے سراسر برکت ہی ہو۔اطرافه ٣٣٤، ٣٣٦ ، ۳۶۷۲، ۳۷۷۳، ٤٥٨٣، ٤٦٠٧، ٥١٦٤ ٥٢٥٠، ٥۸۸۲، ٦٨٤٤ ، ٦٨٤٥ - تشريح فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيْبًا : تَيَتَوا كے معنى تَعْتَدُوا ابوعبيدة۔۔۔۔سے مروی ہیں۔لے یعنی پاکیزہ زمین کا قصد کرو۔آمین کے معنی عامِدِينَ (قصد کرنے والے) بھی انہی کے ہیں۔کے اس سے آیت وَ لا امين البيت الحرام مقصود ہے۔پوری آیت یہ ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحِلُوا شَعَابِرَ اللهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا هَ وَلَا القَ وَلاَ مِنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنْ ربِّهِمْ وَرِضْوَانًا وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ أَن صَدَّ وكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدة:٣) ترجمہ : اے ایمان دارو! اللہ کے ( مقرر کردہ) نشانوں کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینہ کی اور نہ (حرم کی طرف لے جائی جانے والی) قربانی کی اور نہ (ایسی قربانیوں کی) جن کے گلے میں حرم کے ذبیحہ کے نشان کے طور پر ہار پہنائے گئے ہوں اور نہ بیت الحرام کی طرف جانے والے لوگوں کی جو اپنے رب کے فضل اور اس کی رضا کی تلاش میں ہیں اور جب تم احرام کھول دو تو (بے شک) شکار کرو اور ایک قوم کی (تمہارے ساتھ یہ ) عداوت کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا، تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم زیادتی کرو اور تم نیکی اور تقویٰ (کے کاموں) میں باہم ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی (کی باتوں) میں (ایک دوسرے کی مددنہ کیا کرو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ کی سزا یقینا سخت ) ہوتی ہے ) ہے۔أَقَمْتُ وَتَيَمَّمْتُ وَاحِدٌ : دونوں الفاظ کے ایک ہی معنی ہیں : تَعمَّدت یہ قول بھی ابو عبیدہ ہی کا ہے۔انہی معنوں میں ایک شاعر کہتا ہے: اني كَذَاكَ إِذَا مَاسَاءنِي بَنَد يَمَّمْتُ صَدْرَ بَعِيرِي غَيْرَهُ بَلَدًا (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۴۴) یعنی جب کوئی بستی مجھ سے ناگوار سلوک کرے تو میں بھی اسی طرح اپنے اونٹ کے سینے کا رخ اس کے (مجاز القرآن سورة المائدة، آيت فَتَيَمَّمُوا صَعِيدٌ طَيْبًا، جزء اول صفحه ۱۵۵) ا مجاز القرآن، سورة المائدة، آيت ولا آمين البيت الحرام ، جزء اول صفحه (۱۴۶)