صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 242
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۴۲ ۶۵ - کتاب التفسير / المائدة وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَقَامَ رَسُولُ اللهِ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ أَصْبَحَ ( سر رکھے ہوئے) تھے۔ جب صبح ہوئی تو رسول عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے ، وہ کسی پانی کے پاس نہیں فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَا هِيَ بِأَوَّلِ تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیمیم کی آیت نازل کی۔ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ حضرت اسید بن حضیر بولے: اے ابو بکر کے فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا خاندان! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے۔ الْعِقْدُ تَحْتَهُ۔ فرماتی تھیں: ہم نے اس اونٹ کو جو اُٹھایا جس پر میں تھی، کیا دیکھتے ہیں کہ ہار اس کے نیچے ہے۔ اطرافه ٣٣٤، ٣٣٦ ، ٣٦٧٢ ، ۳۷۷۳، ٤٥٨٣ ، ٤٦٠٨، ٥١٦٤ ، ٥٢٥٠ ، ٥٨٨٢، ٦٨٤٤ ، ٦٨٤٥- ٤٦٠٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ۴۶۰۸: يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي اُنہوں نے کہا: (عبدالله) بن وہب نے مجھے عَمْرُو أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ بتایا، کہا: عمرو (بن حارث) نے مجھے خبر دی کہ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عبد الرحمن بن قاسم نے اُن سے بیان کیا: انہوں عَنْهَا سَقَطَتْ قِلَادَةٌ لِي بِالْبَيْدَاءِ نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے وَنَحْنُ دَاخِلُونَ الْمَدِينَةَ فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ فَتَنَى کہا) کہ بیداء مقام میں میرا ایک بار گر گیا اور ہم اس وقت مدینہ کو آرہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ رَأْسَهُ فِي حَجْرِي رَاقِدًا أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وسلم نے اونٹ بٹھایا اور اتر پڑے۔ نیند کی وجہ سے فَلَكَزَنِي لَكْزَةً شَدِيدَةً وَقَالَ حَبَسْتِ میری گود میں اپنا سر رکھ دیا۔ حضرت ابو بکر النَّاسَ فِي قِلَادَةٍ فَبِي الْمَوْتُ لِمَكَانِ آئے، اُنہوں نے مجھے زور سے گھونسہ مارا اور رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہنے لگے: ایک بار کے لئے تمام لوگوں کو تو وَقَدْ أَوْجَعَنِي ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ نے روک رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ وَحَضَرَتِ الصُّبْحُ کی موجودگی کی وجہ سے ( میں نہ ہلی۔) گویا فَالْتُمِسَ الْمَاءُ فَلَمْ يُوجَدْ فَنَزَلَتْ مجھ پر موت وارد تھی۔ اور مجھے اُن کے مار نے