صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 241
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۴۱ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ باپ ( قاسم بن محمد ) سے، انہوں نے نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْض روایت کی، وہ فرماتی تھیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کسی سفر میں نکلے۔بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ جب ہم بیداء یا ذات الجیش مقام پر پہنچے ، میرا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بار ٹوٹ کر کہیں گر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ علیہ وسلم اس کے ڈھونڈنے کے لئے ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے اور وہ پانی کے وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءً قریب نہ تھے ، نہ اُن کے ساتھ پانی تھا۔( یہ دیکھ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةَ کر) لوگ حضرت ابو بکر صدیق کے پاس آئے اور کہنے لگے: عائشہ نے یہ کیا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو ٹھہرا رکھا ہے بحالیکہ وہ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ پانی کے قریب نہیں اور نہ پانی ان کے ساتھ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءً فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ہے۔(یہ سن کر ) حضرت ابو بکر آئے اور رسول وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر میری ران پر رکھا وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ ہوا تھا، آپ سو گئے تھے۔حضرت ابو بکر کہنے فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ لوگوں کو روکے رکھا ہے اور وہ کسی پانی کے قریب وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءً قَالَتْ عَائِشَةُ نہیں اور نہ پانی اُن کے ساتھ ہے۔حضرت عائشہ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ الله فرماتی تھیں: حضرت ابو بکڑ نے مجھ پر ناراضگی کا أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي اظہار کیا اور جو اللہ نے کہلانا چاہا انہوں نے کہا خَاصِرَتِي وَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ اور میرے پہلو میں اپنے ہاتھ سے کو سچ مارنے لگے إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور مجھے ملنے جلنے سے صرف یہی بات روکتی تھی