صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 240 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 240

صحیح البخاری جلد ۱۰ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة خدا تعالیٰ کا ہو گیا ہے اور تمام اعضاء اور قوی الہی خدمت میں ایسے لگ گئے ہیں کہ گویا وہ جوارح الحق ہیں۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۰،۵۹) مذکورہ بالا بیان سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اہم اور عظیم الشان حقیقت دین ایجاز بلیغ سے چند الفاظ میں سموئی گئی ہے۔عربی زبان ہی اس ایجاز کی متحمل ہو سکتی ہے۔وجہ یہ کہ لفظ اسکھ کے معانی میں جہاں کامل اطاعت کا مفہوم پایا جاتا ہے ، وہاں ودیعت امانت اور بلا کم و کاست سپردگی کا مفہوم بھی ہے۔اسی طرح لفظ محسن کا مفہوم بھی وسعت رکھتا ہے۔یعنی ایسی کامل اطاعت ہو کہ اعمال میں صفات الہی کا حسن جلوہ گر ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مفہوم کو آئینہ کمالات اسلام“ میں واضح فرمایا ہے اور دین اسلام پر عمل کرنے سے جو اعلی ثمرات صادر ہوتے ہیں ان کا مفصل ذکر کیا ہے۔ثمرات و برکات اسلام کی مزید تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۶۰ تا اے۔روایت زیر باب سے ظاہر ہے کہ یہودِ عرب نے بھی مذکورہ بالا آیت کے نازل ہونے پر تمنا کی کہ کاش وہ ان کے لئے نازل ہوتی اور وہ عید مناتے۔یہ شہادت معمولی شہادت نہیں۔اس تعلق میں کتاب الایمان، باب ۳۳ بھی دیکھئے۔بَاب ٣ : فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدً ا طَيْبًا (المائدة: ٧) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا ) اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاکیزہ مٹی کا قصد کرو تَيَمَّمُوا تَعَمَّدُوا آمِينَ (المائدة: ٣) تَيَمَّمُوا کے معنی قصد کرو۔(آمِينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ عَامِدِينَ، أَمَّمْتُ وَتَيَمَّمْتُ وَاحِدٌ۔وَقَالَ میں آمین کے معنی ہیں قصد کرنے والے۔ابْنُ عَبَّاسِ : لَمَسْتُمُ (النساء :٤٤) أَمَّمْتُ اور تیممت کے ایک ہی معنی ہیں۔وَ تَمَسُّوهُنَ (البقرة: ۲۳۷) وَالَّتِي دَخَلْتُم (یعنی میں نے قصد کیا۔) حضرت ابن عباس نے بهِنَّ (النساء : ٢٤) وَالْإِفْضَاءُ النِّكَاحُ کہا: لَمَسْتُم اور تَمَسُّوهُنَّ اور الَّتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ اور الإفضاء ، ان سب کے معانی نکاح کے ہیں۔٤٦٠٧: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ :۴۶۰۷: اسماعیل (بن ابی اولیس) نے ہم سے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ عبد الرحمن بن قاسم سے ، عبد الرحمن نے اپنے لفظ المستم صحيح البخارى مطبوعه مكتبة الرشد الریاض کے مطابق ہے۔(صحيح البخاري، كتاب التفسير سورة المائدة، باب ۳ صفحه ۶۳۱)