صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 239
۲۳۹ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة صحیح البخاری جلد ۱۰ دین کا کمال اس صورت میں متحقق ہو سکتا ہے جب اس کے ثمرات بھی کاملاً حاصل ہونے کی اُمید ہو۔چنانچہ فرمايا: وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمُ مِنَ النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَيكَ رَفِيقًا (النساء: ۷۰) یعنی اور جو ( لوگ بھی اللہ اور اس رسول کی اطاعت کریں گے وہ اُن لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین ( میں ) اور یہ لوگ ( بہت ہی ) اچھے رفیق ہیں۔دین کامل پر چلتے ہوئے اعلیٰ نمونے دکھانے والوں کی نسبت فرماتا ہے: بلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فله أجدُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ) (البقرة : ۱۱۳) ترجمہ: (اور بتاؤ کہ دوسرے لوگ) کیوں نہیں (داخل ہوں گے ) جو بھی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دے اور وہ نیک کام کرنے والا ( بھی ) ہو تو اس کے رب کے ہاں اس کے لیے بدلہ (مقرر) ہے اور ان (لوگوں) کو نہ ( آئندہ کے متعلق) کسی قسم کا خوف ہو گا اور نہ وہ (کسی سابق نقصان پر غمگین ہوں گے۔اس آیت کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اب آیات ممدوحہ بالا پر ایک نظر غور ڈالنے سے ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کی حقیقت تب کسی میں متحقق ہو سکتی ہے کہ جب اس کا وجود مع اپنے تمام باطنی و ظاہری قوی کے محض خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی راہ میں وقف ہو جاوے اور جو امانتیں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں پھر اسی معطی حقیقی کو واپس دی جائیں اور نہ صرف اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقت کاملہ کی ساری شکل دکھلائی جاوے۔یعنی شخص مدعی اسلام یہ بات ثابت کر دیوے کہ اس کے ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور اُس کی عقل اور اُس کا فہم اور اُس کا غضب اور اُس کار حم اور اُس کا حلم اور اس کا علم اور اس کی تمام روحانی اور جسمانی قوتیں اور اس کی عزت اور اس کا مال اور اس کا آرام اور شرور اور جو کچھ اس کا سر کے بالوں سے پیروں کے ناخنوں تک باعتبار ظاہر وباطن کے ہے۔یہاں تک کہ اس کی تیات اور اس کے دل کے خطرات اور اس کے نفس کے جذبات سب خدا تعالیٰ کے ایسے تابع ہو گئے ہیں کہ جیسے ایک شخص کے اعضاء اس شخص کے تابع ہوتے ہیں۔غرض یہ ثابت ہو جائے که صدق قدم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو کچھ اس کا ہے وہ اس کا نہیں بلکہ