صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 238
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۳۸ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة بَاب ٢ : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدة : ٤ ) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ : مَخْصَةٍ اور حضرت ابن عباس نے کہا: مَخْصَةٍ کے (المائدة: ٤) مَجَاعَةٍ۔معنی ہیں بھوک۔٤٦٠٦ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۶۰۶ محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ عبد الرحمن حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ (بن مهدی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان عَنْ قَيْسٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ (ثوریؒ) نے ہمیں بتایا، انہوں نے قیس (بن قَالَتِ الْيَهُودُ لِعُمَرَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ مسلم) سے، قیس نے حضرت طارق بن شہاب آيَةً لَوْ نَزَلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَاهَا عِيدًا سے روایت کی کہ یہود حضرت عمرؓ سے کہنے لگے : فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ آپ لوگ ایک آیت پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم میں نازل ہوتی تو ہم اس دن عید مناتے۔حضرت عمرؓ وَأَيْنَ أُنْزِلَتْ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى نے (یہ سن کر فرمایا: میں خوب جانتا ہوں کہ وہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَتْ يَوْمَ كب نازل کی گئی اور کہاں نازل کی گئی اور رسول کب عَرَفَةَ وَإِنَّا وَاللَّهِ بِعَرَفَةَ قَالَ سُفْيَانُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کہاں تھے ، جب وہ وَأَشْكُ كَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَمْ لَا نازل ہوئی۔عرفات کے دن اور ہم بھی اللہ کی الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة: ٤) قسم اس دن عرفات ہی میں تھے۔سفیان نے کہا: مجھے شک ہے (حضرت عمرؓ نے کہا: ) اس دن جمعہ أطرافه ٤٥ ٤٤٠٧ ٧٢٦٨- اليوم تھا یا نہیں۔(کہا: وہ آیت یہ ہے: ) آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا۔مَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم دینکم : پوری آیت یہ ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطَرَ فِي مَحْصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِاثْهِ فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) ( المائدة : ۴) ترجمہ: آج میں نے تمہارے (فائدہ کے) لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنے احسان کو پورا کر دیا ہے اور تمہارے لیے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔لیکن جو شخص بھوک (کی حالت) میں مجبور ہو جائے اور وہ گناہ کی طرف جھکنے والا نہ ہو ( اور حرام چیزوں میں سے کچھ کھالے ) تو (یاد رکھو کہ) اللہ یقیناً مجبوری کی غلطیوں کو ) بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔