صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 237 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 237

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۳۷ ۲۵ - کتاب التفسير / المائدة ایک کے لئے ( اپنی اپنی استعداد کے مطابق الہامی) پانی تک پہنچنے کے لئے ایک چھوٹا یا بڑا راستہ بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ مگر ( اس کلام کے متعلق) تمہارا امتحان لینے کے لئے جو اُس نے تم پر اُتارا تھا ایسا نہیں کیا) پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کے لئے مقابلہ کرو۔ کیونکہ اللہ ہی کی طرف تم سب نے لوٹ کر جانا ہے۔ جبکہ وہ تم کو ان تمام امور میں جن میں تم اختلاف رکھتے تھے حقیقت سے واقف کرے گا۔ اور اے رسول ! تو ان کے درمیان اس کلام کے ذریعہ سے فیصلہ کر جو اللہ نے ( تجھ پر) اُتارا ہے اور تو ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر اور اُن سے ہوشیار رہ کہ وہ تجھے فتنہ میں ڈال کر اللہ کے اُتارے ہوئے کلام سے دور نہ لے جائیں۔ پھر اگر وہ پھر جائیں تو جان لے کہ اللہ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے سزادے اور لوگوں میں سے بہت لوگ عہد شکن ہیں۔ شِرْعَةً کے معنی ہیں گھاٹ، جس سے پانی پیا اور پلایا جاتا ہے۔ اس سے شریعت کا لفظ ہے۔ قوانین بشریہ کا اصل مصدر و منبع وحی الہی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ انسان کو اپنے خالق کی مشیت کا علم ہوتا ہے کہ اُسے کیا کرنا چاہیئے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ مِنْهَاجًا کے معنی ہیں طریق کار ، دستور العمل، حکم فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ کہ تمام نیکیوں میں دوسروں سے آگے نکل جائیں تو كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ کا مصداق بن سکیں گے۔ خالی ضابطہ حیات کے اعلیٰ ہونے پر فخر کرنا بے سود ہے اگر اس کے مطابق عمل نہیں۔ فَإِن عُثر سے قانون شہادت میں ایک استثنائی صورت بطور مثال دے کر لفظ مِنْهَاجًا کا مفہوم واضح کیا گیا ہے۔ اس کے معنی سَبِیل اور سُنّة) بتائے گئے ہیں یعنی راہ، جو منزلِ مقصود تک پہنچائے اور سنت، طریق کار۔ شہادت موجود نہ ہو تو تنازعات کے فیصلہ میں کیا طریق کار اختیار کیا جائے ؟ سورۃ المائدہ آیت نمبر ۱۰۸ میں ایک مثال سے سمجھایا گیا ہے کہ شہ ا ہے کہ شہادت نہ ملے تو قسم سے فائدہ اُٹھا یا جا سکتا ہے۔ اس مثال سے منہاج کا اج کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ پوری آیت یہ ہے : فَإِنْ عُثرَ عَلَى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَأَخَانِ يَقُوْمِنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيْنِ فَيُقْسِمُنِ بِاللهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذَا لَمِنَ الظَّلِمِينَ (المائدة : ١٠٨) ترجمہ: پھر اگر (بعد میں) یہ کھل گیا کہ ان دونوں نے ( اپنے ذمے) گناہ واجب کر لیا ہے تو دو اور شخص ( ان وارثوں یعنی میت کے رشتہ داروں میں سے ) جن کے خلاف پہلے دونے حق قائم کیا تھا ( شہادت کے لیے) کھڑے ہوں اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی (ان) پہلے دو گواہوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے ( اپنی گواہی میں) کوئی زیادتی نہیں کی۔ اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو ہم کو ظالموں میں سے شمار کرنا چاہیئے۔ مذکورہ بالا آیت سے ما قبل اور مابعد کی دو آیتیں بھی دیکھئے۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں احکام شریعت کے ساتھ ہر چھوٹے بڑے حکم سے متعلق طریق عمل بھی واضح فرمایا ہے۔ مذکورہ بالا شرح الفاظ الَّتِي كَتَبَ اللهُ ، تَبُوا ، اُجُورَهُنَ ، شِرْعَةً اور مِنْهَاجًا ابو عبیدہ سے اور شرح الفاظ مختصة اور احیا ها حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۴۰، ۳۴۱)