صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 236
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۳۶ ۲۵ - کتاب التفسير / المائدة مِنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ (المائدة: ۶۷) ترجمہ : اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (کچھ) ان کے رب کی طرف سے (آب) اُن پر اتارا گیا ہے۔ اس کو ظاہر کرتے رہتے تو وہ ضرور اپنے اوپر کی طرف سے بھی کھاتے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے بھی (کھاتے۔) (بے شک ان میں سے ایک جماعت میانہ رو ہے۔ لیکن بہت سے ان میں سے ایسے ہیں کہ جو (کام) وہ کرتے ہیں وہ بہت برا ہے۔ مذکورہ بالا آخری حوالہ سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کے پیش نظر در اصل مائدہ جسمانی اور مائدہ روحانی کی نشاندہی کرنا مقصود ہے۔ گویا آئندہ ابواب و روایات کے لئے مذکورہ بالا حوالے بطور رؤوس الاقلام ہیں۔ سابقہ سورتوں کے باب شروع کرنے سے پہلے بھی انہوں نے یہی طریق اختیار کیا تھا۔ دیکھئے تمہید سورۃ النساء۔ سورۂ آل عمران میں غزوہ بدر و غزوہ اُحد کا ذکر ہے، اس کی تمہید میں بھی اس کے اہم سیاق کلام کی طرف متعلقہ مفردات کی شرح سے توجہ دلائی گئی ہے۔ مختصة کے معنی مجاعة یعنی بھوک ہیں۔ بھوک ہیں۔ اس سے استثنائی حالت : استثنائی حالت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آیت فمن اضْطَرَ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لا ثُم فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ) اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (المائدة: (۴) یعنی جو شخص بھوک ( کی حالت) میں اور وہ گناہ کی طرف جھکنے والا نہ ہو (اور حرام چیزوں میں سے کچھ کھالے ) تو (یاد رکھو کہ ) اللہ یقیناً ( مجبوری کی غلطیوں کو) بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ شریعت اسلامیہ ہر جہت سے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جس میں جزئیات بھی ملحوظ رکھی گئی ہیں۔ مجبور ر ہو جائے اور وہ الفاظ مَنْ أَحْيَاهَا کی شرح سے اس غرض کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو ۔ جو سورة المائدة کا اصل موضوع ہے۔ پوری آیت یہ ہے : مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (المائدة: ۳۳) ترجمہ : اس وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کر دیا تھا کہ (وہ خیال رکھیں کہ) جو کسی شخص کو بغیر اس کے کہ اس نے قتل کیا ہو یا ملک میں فساد پھیلا یا ہو، قتل یا کر دے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا اور جو اسے زندہ کرے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کر دیا اور ہمارے رسول ان کے پاس یقیناً کھلے نشان لے کر آئے تھے۔ پھر بھی ان میں سے بہت سے (لوگ) ملک میں زیادتیاں کرتے جارہے ہیں۔ الفاظ شِرْعَةً وَ مِنْهَا جا سے منبع قانون اور دستور العمل کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ پوری آ ی آیت یہ ہے: لِكُلِّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَ مِنْهَاجًا وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا أَتْكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَتِ إِلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ وَ أَنِ احْكُمُ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرُهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ لَفْسِقُونَ (المائدة : ۴۹ ، ۵۰) ترجمہ : ہم نے تم میں سے ہر