صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 236 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 236

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۳۶ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة مِنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ (المائدة: 1) ترجمہ: اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (کچھ) ان کے رب کی طرف سے (آب) اُن پر اُتارا گیا ہے۔اس کو ظاہر کرتے رہتے تو وہ ضرور اپنے اوپر کی طرف سے بھی کھاتے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے بھی (کھاتے۔) (بے شک) ان میں سے ایک جماعت میانہ رو ہے۔لیکن بہت سے ان میں سے ایسے ہیں کہ جو (کام) وہ کرتے ہیں وہ بہت بُرا ہے۔مذکورہ بالا آخری حوالہ سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کے پیش نظر در اصل مائدہ جسمانی اور مائدہ روحانی کی نشاندہی کرنا مقصود ہے۔گویا آئندہ ابواب و روایات کے لئے مذکورہ بالا حوالے بطور رؤوس الأقلام ہیں۔سابقہ سورتوں کے باب شروع کرنے سے پہلے بھی اُنہوں نے یہی طریق اختیار کیا تھا۔دیکھئے تمہید سورۃ النساء۔سورۃ آل عمران میں غزوہ بدر وغزوہ اُحد کا ذکر ہے، اس کی تمہید میں بھی اس کے اہم سیاق کلام کی طرف متعلقہ مفردات کی شرح سے توجہ دلائی گئی ہے۔مَخْصَةٌ کے معنی مَجَاعَةٌ یعنی بھوک ہیں۔اس سے استثنائی حالت کی طرف توجہ دلائی ہے۔آیت فمن اضْطَرَ فِي مَخْصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِاثْهِ فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) ( المائدة : ۴) یعنی جو شخص بھوک ( کی حالت) میں ، مجبور ہو جائے اور وہ گناہ کی طرف جھکنے والا نہ ہو (اور حرام چیزوں میں سے کچھ کھالے ) تو (یاد رکھو کہ) اللہ یقیناً مجبوری کی غلطیوں کو) بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔شریعت اسلامیہ ہر جہت سے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔جس میں جزئیات بھی ملحوظ رکھی گئی ہیں۔الفاظ مَنْ اَحْيَاهَا کی شرح سے اس غرض کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو سورۃ المائدۃ کا اصل موضوع ہے۔پوری آیت یہ ہے: مِنْ أجلِ ذلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَاءِيلَ أَنَّكَ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَانَمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَانَمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَ تُهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (المائدة :۳۳) ترجمہ: اس وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کر دیا تھا کہ وہ خیال رکھیں کہ) جو کسی شخص کو بغیر اس کے کہ اس نے قتل کیا ہو یا ملک میں فساد پھیلایا ہو، قتل کر دے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا اور جو اسے زندہ کرے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کر دیا اور ہمارے رسول ان کے پاس یقیناً کھلے نشان لے کر آئے تھے۔پھر بھی ان میں سے بہت سے (لوگ) ملک میں زیادتیاں کرتے جار ہے ہیں۔الفاظ شرْعَةً وَ مِنْهَاجًا منبع قانون اور دستور العمل کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔پوری آیت یہ ہے: لِكُلّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا الكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ إِلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَتَكُم بِمَا كُنتُم فِيهِ تَخْتَلِفُونَ وَ أَنِ احْكُمُ بَيْنَهُم بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرُهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ نَفْسِقُونَ ) ( المائدة: ۵۰،۴۹) ترجمہ : ہم نے تم میں سے ہر