صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 235 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 235

۲۳۵ صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - کتاب التفسير / المائدة مومن عورتیں اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے پاک دامن عور تیں جبکہ تم انہیں نکاح میں لا کر نہ بدکاری کے مرتکب ہو کر اور نہ (ہی) پوشیدہ دوست بنا کر، ان کے مہر انہیں دے دو (تمہارے لئے جائز ہیں) اور جو شخص ایمان رکھتے ہوئے کفر (اختیار) کرتا ہے تو سمجھو کہ ) اس کا عمل ضائع ہو گیا اور وہ آخرت میں گھاٹا پانے والوں میں سے ہو گا۔الْمُهَيِّين: الْأَمِينُ۔اس وصف سے قرآنِ مجید متصف ہے کہ اس نے تمام سابقہ شریعتوں کی تعلیم کو محفوظ کر لیا ہے۔وہ جامع شرائع سماویہ ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الكتبِ وَمُهَيْمِنَّا عَلَيْهِ فَاحْكُمُ بَيْنَهُم بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلِّ جَعَلْنَا مِنْكُمُ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا أَتْنَكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَنتُكُم بِمَا كُنتُم فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (المائدة: ۴۹) ترجمہ: اور ہم نے تجھ پر اس کتاب کو حق پر مشتمل اُتارا ہے، وہ اپنے سے پہلی کتاب (کی باتوں) کو پورا کرنے والی ہے اور اس پر محافظ ہے۔پس تو اس (کتاب) کے مطابق جو اللہ نے ( تجھ پر) اُتاری ہے ان کے درمیان فیصلہ کر اور جو حق تیری طرف آیا ہے، اسے چھوڑ کر اُن کی خواہشوں کی پیروی نہ کر۔ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ( اپنی اپنی استعداد کے مطابق الہامی) پانی تک پہنچنے کے لئے ایک چھوٹا یا بڑا راستہ بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنادیتا۔مگر (اس کلام کے متعلق) تمہارا امتحان لینے کے لیے جو اُس نے تم پر اُتارا تھا ( ایسا نہیں کیا) پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کے لیے مقابلہ کرو کیونکہ اللہ ہی کی طرف تم سب نے لوٹ کر جانا ہے جبکہ وہ تم کو ان تمام امور میں جن میں تم اختلاف رکھتے تھے حقیقت سے واقف کرے گا۔جسمانی و روحانی مائدہ سے متمتع ہونے کے لئے شریعت حقہ کی ضرورت ہے۔اس اعتبار سے بنی نوع انسان کی راہنمائی کے لئے ایک کامل شریعت عطا کی گئی ہے، جو قرآنِ مجید میں محفوظ ہے اور وہ اس شریعت کا امین اور محافظ ہے۔دونوں قسم کے مائدے سے فائدہ اُٹھانے کے لئے آخری اور اصل ضرورت یہ ہے کہ شریعت الہیہ پر عمل کیا جائے۔اگر عمل نہیں تو کچھ بھی نہیں۔اس کے لئے سفیان ثوری کے قول کا حوالہ دیا گیا ہے۔انہوں نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے، وہ یہ ہے: قُلْ يَاهْلَ الْكِتَب لَسْتُمُ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا الثَّوْرِيةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ الَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَ كَثِيرًا مِنْهُم مَّا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَ كَفْرًا ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الكفرين (المائدة:۲۹) ترجمہ: تو کہہ دے (کہ) اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل (کو) اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر اُتارا گیا ہے، اس کو ظاہر نہیں کروگے۔(اس وقت تک ) تم کسی ( اچھی ) بات پر (قائم) نہیں اور جو کچھ تجھ پر تیرے رب کی طرف سے اُتارا گیا ہے ، وہ ان میں سے بہتوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور ہی بڑھا دے گا۔پس تو اس کا فر قوم پر افسوس نہ کر۔اس آیت سے پہلے فرماتا ہے: وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا الثورية وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَا كَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ أُمَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ ۖ وَكَثِيرُ