صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 234 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 234

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۳ ۲۵ - کتاب التفسير / المائدة تبوا سے اس آیت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے، جس میں نفوس بشریہ کی سلامتی اور حفاظت کا ذکر ہے اور یہ دوسری اہم معاشرتی ضرورت ہے۔ جب تک کوئی ملک حکومت کے عادلانہ نظام ضبط و ربط سے بہرہ اندوز نہ ہو اس کے باشندے امن و امان کی زندگی بسر نہیں کرتے۔ لفظ تبوا سے سورہ مائدہ کی اس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے: إِنِّي أَرِيدُ أَنْ تَبُوا بِإِثْمِي وَ إِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحُبِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَوْا الظَّلِمِينَ (المائدة: ۳۰) ترجمہ : میں یقینا چاہتا ہوں کہ تو میر ا گناہ (بھی) اور اپنا گناہ (بھی) ہمیشہ کے لئے اُٹھالے ، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ تو دوزخیوں میں سے ہو جائے اور یہ ظالموں کا بدلہ ہے۔ اس آیت کا سیاق و سباق مذکورہ بالا ضرورت سے متعلق ہے۔ دَابِرَةُ کے معنی ہیں: دَوْلَةٌ ( دَالَ يَدُولُ دَوْلَةٌ ) یعنی انقلاب - وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران: ۱۴۱) یعنی یہ ( غلبہ کے دن ایسے ہیں کہ ہم انہیں لوگوں کے درمیان نوبت به نوبت پھراتے رہتے ہیں۔ لفظ دائرہ سے اِس آیت کی طرف توجہ توجہ دلانا مقصود ہے : فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمُ يَقُولُونَ نَخْشَى أَنْ تُصِيبَنَا دَابِرَةً فَعَسَى اللهُ أَنْ يَأْتِي أَنْفُسِهِمْ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَى مَا اسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَدِمِينَ (المائدة: ۵۳) ترجمہ : اور تو ان لوگوں کو جن کے دل میں بیماری ہے دیکھے گا کہ وہ یہ کہتے ہوئے اُن (کفار) کی طرف دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم اس بات سے) ڈرتے ہیں کہ ہم پر کوئی مصیبت (نہ) آجائے۔ پس قریب ہے کہ اللہ ( تمہاری) فتح کے سامان) یا اپنے پاس سے کوئی (اور) امر (ظہور میں ) لائے۔ جس سے وہ اس بات پر کہ جسے انہوں نے اپنے دلوں میں چھپایا ہوا ہے نادم ہو جائیں۔ سیاق کلام میں یہود و نصاری و منافقین کی ریشہ دوانیوں اور فتنہ انگیزی سے آگاہ کیا گیا ہے۔ باشندگانِ وطن کے امن و سلامتی کے لئے اندرونی فتنوں اور بیرونی حملوں کا انسداد ضروری ہے۔ اس حوالہ سے تیسری معاشرتی ضرورت کی طرف توجہ منعطف کروائی گئی ہے اور لفظ الإغراء سے سورہ مائدہ کی پندرھویں آیت کے سیاق کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے ، جس میں بتایا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ یہود و نصاری کتاب اللہ بھول گئے اور نتیجہ یہ ہے کہ بغض وعداوت نے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔ مسلمانوں کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیئے، تا وہ بھی المائدہ کی برکات سے محروم نہ ہو جائیں۔ الْإِغْرَاء کے معنی ہیں التسليط یعنی ایک دوسرے پر مسلط کر دینا۔ أجُورَهُنَّ : مسائل حلت و حرمت کے ضمن میں اہل کتاب کے ساتھ معاشی و ازدواجی رابطہ کا مسئلہ اس اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے کہ خوردونوش اور صلہ رحمی بھی تعلقات معاشرہ کی استواری میں بڑی مدد دیتی ہے۔ اسلام نے ان کی اجازت دی ہے۔ ! ہے۔ پوری آیت یہ ہے : اَلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ وَالْمُحْصَنْتُ مِنَ الْمُؤْمِنَتِ وَالْمُحْصَلْتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُوهُنَّ أجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِى أَخْدَانٍ وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ ) (المائدة: 1) ترجمہ : آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور تمہارے لئے ان لوگوں کا پکا ہوا) کھانا جنہیں کتاب دی گئی تھی حلال ہے اور تمہارا ( پکا ہوا) کھانا اُن کے لئے حلال ہے اور پاک دامن