صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 233 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 233

صحیح البخاری جلد ۱۰ ٢٣٣ ۶۵- کتاب التفسير/المائدة ވމ الْقُرْآنُ أَمِينٌ عَلَى كُلّ كِتَابٍ قَبْلَهُ۔اُجُورَهُنَّ سے اُن کے مہر مراد ہیں۔المهیمن بمعنی امین ہے ، یعنی قرآن محافظ ہے ہر اس کتاب کا جو اس سے پہلے تھی۔{ قَالَ سُفْيَانُ مَا فِي الْقُرْآنِ سفیان (ثوری) نے کہا: سارے قرآن میں کوئی آيَةٌ أَشَدُّ عَلَيَّ مِنْ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ آیت ایسی نہیں جو مجھ پر اس آیت سے زیادہ حتى تُقِيمُوا الثَّوريةَ وَالْإِنْجِيلَ وَ مَا گراں ہو ، یعنی اس وقت تک تم کسی بات پر بھی انْزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُم - (المائدة: ٦٩) نہیں ہو جب تک کہ تم تورات اور انجیل پر عمل مَخْصَةٍ (المائدة: ٤) مَجَاعَةٍ مَنْ نہ کرو اور اس پر جو تم پر تمہارے رب کی طرف أحْيَاهَا (المائدة: ٣٣) يَعْنِي مَنْ حَرَّمَ سے نازل کیا گیا ہے۔مَخصَةٍ کے معنی ہیں بھوک مَنْ أَحْيَاهَا کے معنی ہیں جس نے قَتْلَهَا إِلَّا بِحَقِّ حَيِيَ النَّاسُ مِنْهُ جَمِيعًا۔اس نفس کا قتل حرام قرار دیا، مگر یہ کہ جائز طور شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا (المائدة: ٤٩) سَبيلا وَسُنَّةَ فَإِنْ عُثِرَ (المائدة: ١٠٨) ظهرَ۔سے، یعنی ایسے طریق پر جس سے تمام لوگ زندہ رہیں۔شرعةً کے معنی ہیں راستہ اور مِنْهَاجًا الأولَيْنِ (المائدة: ۱۰۸) وَاحِدُهُمَا کے معنی ہیں طریقہ۔فَإِنْ عُشر کے معنی ہیں پھر اگر ظاہر ہو گیا۔الاولین سے مراد ہے کہ دونوں أولى}۔( فریقوں) میں سے ایک جو حق دار ہے۔تشریح : باب نمبر میں بعض الفاظ اور فقروں کی شرح سے ضمنا ایسی آیات کا حوالہ دیاگیاہے جن سے اس سورۃ کے احکام کی نوعیت کا علم ہو سکتا ہے۔التى كتب الله سے آیت يُقَومِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَسِرِينَ (المائدة: ۲۲) کی طرف اشارہ ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے: اے میری قوم ! ( یعنی قوم موسیٰ) تم اس پاک کی ہوئی زمین میں داخل ہو جاؤ، جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھی ہے اور اپنی پیٹھوں کے رُخ نہ لوٹ جانا، ورنہ تم نقصان اُٹھا کر لوٹو گے۔اس آیت کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ مشیتِ صالحہ کے لئے پہلی ضرورت اچھی زمین کا مہیا ہوتا ہے، جس سے انسان آزادی کے ساتھ دونوں قسم کے مائدہ کی ضروریات حاصل کر سکے۔اس آیت کا حوالہ بطور تمہید ہے ، بلا وجہ نہیں۔یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء۸ حاشیہ صفحہ ۳۳۹)