صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 232 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 232

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۳۲ ۲۵ - کتاب التفسير / المائدة ه الْمَائِدَة سورة المائدة کا بیشتر حصہ ۵ھ اور ےھ کے درمیان نازل ہوا اور ترتیب نزول میں سورۃ النساء کے بعد ہے۔ آیت ۴ کے ایک حصہ کی نسبت مستند روایات میں ہے کہ ۱۰ھ میں عرفات کے مقام پر 9 ذوالحج کو نازل ہوا یعنی اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة : ۴) کے اس تھا۔ تعلق میں دیکھئے باب ۲ روایت نمبر ۴۶۰۶۔ بتایا جا چکا ہے کہ موجودہ ترتیب سور جبرائیلی قرآت کی روشنی میں قائم ہوئی ہے۔ دسویں ہجری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا آخری سال ہے اور اس میں جبرائیل کے ساتھ آپ کو قرآن مجید کا دور بجائے ایک کے دو دفعہ کرنے کا موقع ملائے اور آخری دور جس ترتیب سے پڑھا گیا، وہی ترتیب علی حالہ قائم ہے۔ لفظ مائدة فاعل بمعنى مفعول ہے، مِيْدَ بِهَا صَاحِبُهَا یعنی سامان خوراک جو زندگی کا سہارا ہو۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۳۹) سورۃ کی ابتداء احکام حلت و حرمت طعام سے ہوئی ہے اور اس کا خاتمہ حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا رَبَّنَا انْزِلْ عَلَيْنَا مَا بِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ (المائدة: ۱۱۵) سے ہے۔ یعنی اے ہمارے رب ! آسمانی مائدہ ہم پر نازل فرما۔ صحت افزا زندگی دونوں قسم کا مائدہ میسر آنے سے نصیب ہوتی ہے اور اس سورۃ میں دونوں کا ذکر ہے۔ اس لیے اس سورۃ کو المائدة کا نام دیا گیا ہے۔ باب ۱ حرم (المائدة : (٢) وَاحِدُهَا حَرَامٌ حُرُم کا مفرد حرام ہے، یعنی احرام احر باندھے فَبِمَا نَقْضِهِمْ (المائدة: (١٤) بِنَقْضِهِمْ ہوئے۔ فَبِمَا نَقْضِهِمُ سے مراد ہے کہ اُن کے الَّتِي كَتَبَ الله (المائدة: ۲۲) جَعَلَ الله توڑنے کی وجہ سے۔ الَّتِي كَتَبَ اللہ کے معنی تبوا (المائدة: تَحْمِلَ۔ ٣٠) دَابِرَةُ ہیں اللہ نے مقرر کیا۔ تبوا کے معنی ہیں کہ (المائدة: ٥٣) دَوْلَةٌ۔ وَقَالَ غَيْرُهُ تو ( میرا گناہ) اُٹھا لے گا۔ داہری کے معنی زمانے الْإِغْرَاءُ التَّسْلِيطُ ۔ اُجُورَهُنَّ (المائدة: ٦) کی گردش۔ دوسرے لوگوں نے کہا: الْإِغْرَاء مُهُورَهُنَّ الْمُهَيْمِنُ (الحشر : ٢٤) الْأَمِينُ کے معنی ہیں ایک دوسرے پر مسلط کر دینا۔ ا۔ (التحرير والتنوير للتونسي، تفسير سورة المائدة، آيت: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ ، جزء ۶ صفحه (۱۲۶) ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : " آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر 68 میں نے اپنی نعمت تمام کر دی ہے۔“ (صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب ۷، روایت نمبر ۴۹۹۸)