صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 231
۲۳۱ و ۶۵ - کتاب التفسير / النساء صحیح البخاری جلد ۱۰ اللهُ يُفْتِيَكُمُ فِي الْكَللَةِ إِنِ امْرُ وا هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَ لَكَ أَخْتُ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ تَهَا ولد فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الظُّلُثْنِ مِمَّا تَرَكَ وَ إِنْ كَانُوا إِخْوَةٌ رِجَالًا وَنِسَاءَ فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ( النساء: ۱۷۷) ترجمہ : وہ تجھ سے (ایک قسم کے کلالہ کے متعلق فتویٰ پوچھتے ہیں۔تو کہہ دے اللہ تمہیں (ایسے) کلالہ کے متعلق حکم سناتا ہے۔اگر کوئی ایسا شخص مر جائے کہ اس کے اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو جو کچھ اس نے چھوڑا ہو اس کا نصف اس ( بہن ) کا ہو گا اور اگر ( وہ بہن مر جائے اور ) اس کے اولاد نہ ہو تو وہ ( یعنی اس کا بھائی) اس (کے سب ترکہ) کا وارث ہو گا اور اگر دو بہنیں ہوں تو جو کچھ اس (بھائی) نے چھوڑا ہو اس کا دو تہائی ان کا ہو گا اور اگر وہ ( وارث بھائی بہنیں ہوں۔مرد (بھی) اور عور تیں (بھی) تو ان میں سے) مرد کا (حصہ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہو گا۔اللہ تمہارے لئے ( یہ باتیں) تمہارے گمراہ ہو جانے کے خدشہ ) کی بنا پر بیان کرتا ہے اور اللہ ہر ایک امر کو خوب جانتا ہے۔