صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 230 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 230

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۳۰ ۶۵ - كتاب التفسير / النساء باب ۲۷ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيَكُمُ فِي الْكَلَلَةِ إِنِ امْرُ وا هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَةٌ أُخْتَ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُنْ تَهَا وَلَدُ (النساء : ١٧٧) ، (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) یعنی تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔تو کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص مر جائے اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو جو کچھ اس نے چھوڑا ہے اس کا آدھا اس کی بہن کا ہو گا اور وہ شخص اپنی بہن کا وارث ہو گا، اگر اس بہن کی کوئی اولاد نہیں۔وَالْكَلَالَةُ مَنْ لَّمْ يَرتْهُ أَبْ أَوِ ابْن کلالہ وہ شخص ہے جس کا نہ باپ وارث ہو نہ بیٹا۔وَهُوَ مَصْدَرٌ مِنْ تَكَلَّلَهُ النَّسَبُ۔اور یہ مصدر ہے۔اس قول سے مشتق ہے: تكلّلهُ النَّسَبُ۔یعنی نسب اس کے کناروں پر ہی ختم ہو گیا۔٤٦٠٥ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۴۶۰۵ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ابو اسحاق سے روایت ہے۔اللهُ عَنْهُ قَالَ (انہوں نے کہا کہ) میں نے حضرت براء رضی سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَةَ وَآخِرُ آيَةٍ اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے کہا: سب سے آخری سورۃ جو نازل ہوئی وہ برآت ہے اور آخری آیت نَزَلَتْ يَسْتَفْتُونَكَ (النساء: ۱۷۷) جو نازل ہوئی وہ يَسْتَفْتُونَكَ ہے۔یعنی تم سے أطرافه: ٤٣٦٤، ٤٦٥٤، ٦٧٤٤ - فتویٰ پوچھتے ہیں۔تشريح : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيَكُم في الكلمة: کلالہ کی مذکورہ بالا شرح حضرت ابو بکر کی ہے۔بعض کے نزدیک اس کا اشتقاق كل يَكل كلالة وَالْكَلَالَةِ ہے۔کہتے ہیں: كَلَّتِ الرَّحم: رحمی تعلقات دور ہو گئے۔مَنْ لَمْ يَرِثُهُ أَبْ أَوِ ابْنَ : جس کا نہ باپ وارث ہو، نہ بیٹا۔کلالہ کا یہ وہ مفہوم ہے جو بروایت ابن ابی شیبہ حضرت ابو بکر اور جمہور صلحائے صحابہ سے مروی ہے۔۔پوری آیت یہ ہے: يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ ل (مصنف ابن ابى شيبة، كتاب الفرائض، باب فى الكلالة من هم ، جزء ۶ صفحه (۲۹۸)