صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 226
صحیح البخاری جلد ۱۰ نیز آپ نے فرمایا: ۲۲۶ ۶۵ - كتاب التفسير / النساء غرض قانون دو (۲) ہیں۔ایک وہ قانون جو فرشتوں کے متعلق ہے۔یعنی یہ کہ وہ محض اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور ان کی اطاعت محض فطرت روشن کا ایک خاصہ ہے وہ گناہ نہیں کر سکتے مگر نیکی میں ترقی بھی نہیں کر سکتے (۲) دوسرا قانون وہ ہے جو انسانوں کے متعلق ہے یعنی یہ کہ انسانوں کی فطرت میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ گناہ کر سکتے ہیں مگر نیکی میں ترقی بھی کر سکتے ہیں یہ دونوں فطرتی قانون غیر متبدل ہیں اور جیسا کہ فرشتہ انسان نہیں بن سکتا ہے ایسا ہی انسان بھی فرشتہ نہیں ہو سکتا ہے یہ دونوں قانون بدل نہیں سکتے ازلی اور اٹل ہیں اس لئے آسمان کا قانون زمین پر نہیں آسکتا اور نہ زمین کا قانون فرشتوں کے متعلق ہو سکتا ہے۔انسانی خطا کاریاں اگر تو بہ کے ساتھ ختم ہوں تو وہ انسان کو فرشتوں سے بہت اچھا بنا سکتی ہیں کیونکہ فرشتوں میں ترقی کا مادہ نہیں انسان کے گناہ تو بہ سے بخشے جاتے ہیں اور حکمت الہی نے بعض افراد میں سلسلہ خطا کاریوں کا باقی رکھا ہے تا وہ گناہ کر کے اپنی کمزوری پر اطلاع پاویں اور پھر تو بہ کر کے بخشے جاویں یہی قانون ہے جو انسان کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور اسی کو انسانوں کی فطرت چاہتی ہے سہو و نسیان انسانی فطرت کا خاصہ ہے فرشتہ کا خاصہ نہیں پھر وہ قانون جو فرشتوں کے متعلق ہے انسانوں میں کیونکر نافذ ہو سکے۔یہ خطا کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کمزوری منسوب کی جاوے صرف قانون کے نتائج ہیں جو زمین پر جاری ہو رہے ہیں۔کشی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۶) مذکورہ بالا سیدھے سادھے الفاظ میں مسئلہ قضا و قدر کس عمدگی سے بیان کیا گیا ہے جو آج کل ایسے غلط مفہوم میں سمجھا جاتا ہے کہ اس سے ایک خطا کار بے باک ہو کر کہہ دیتا ہے کہ اس کا مقدر ہی ایسا تھا یا یہ کہ کفارہ پر ایمان اس کے لئے کافی ہو گا یا یہ کہ وہ آخر میں توبہ کرلے گا۔تو بہ جب تک کڑی شرائط کے ساتھ نہ ہو بے کار محض ہے۔