صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 225
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۲۵ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء فَرمانِي بِالحَصا : مجلس برخواست ہونے کے بعد حضرت حذیفہ نے اسود کو اپنے پاس بلایا اور ان سے ان کے مسکرانے کی وجہ دریافت کی اور انہیں سمجھایا۔ثُمَّ تَابُوا فَتَابَ اللهُ عَلَيْهِمْ : انہوں نے اپنی غلطی سے رجوع کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر رحم فرمایا۔جیسا کہ آیت إِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوا وَ أَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللهِ وَ اَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَبِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا (النساء :۱۴۷) ترجمہ: سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور اللہ کے ذریعے سے (اپنی) حفاظت چاہی اور اپنی عبادت کو اللہ کے لئے خالص کر دیا۔سو یہ لوگ مومنوں میں شامل ہیں اور اللہ مومنوں کو عنقریب بڑا اجر دے گا۔امام ابن حجر وغیرہ علماء نے مذکورہ بالا آیت سے زندیق کی توبہ قبول ہونے کی نسبت استدلال کیا ہے اور یہ استدلال درست ہے۔کیونکہ چار کڑی شرطیں ہیں۔اگر وہ پوری ہو جائیں تو زندیق مومنوں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۳۷) اور اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ گناہ ایک عارضی شے ہے جیسے بیماری۔اور صحت اصل شئے ہے جو لازمہ خلقت ہے۔گناہ کے بارے میں یہ نظریہ درست نہیں کہ وہ فطرت کا خاصہ ہے جو زائل نہیں ہو سکتا۔ضعف و ناتوانی لغزش و کوتاہی اور نسیان یہ نسبتی عوارض ہیں جن سے ترقی پذیر مخلوق کے لئے چارہ نہیں۔ان کمزوریوں کے تدارک کے لئے اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت اصل شے ہے، جو مستقل و دائم و قائم اور ہر وقت کار فرما ہے۔انسان کا اپنے ضعف کی وجہ سے ٹھو کر کھانا طبعی امر ہے جس کے مقابل پر رحمت ربانیہ کا ظہور پذیر ہونا لازمی ہے۔اگر ضعف نہ ہو تو صفت رحمت معطل ہے اور صفات الہیہ جو الوہیت کے مستقل اور دائمی خواص میں سے ہیں ان میں تعطل ممکن نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قانون تقدیر الہی کی دو قسمیں بیان کی ہیں: ایک آسمانی فرشتوں کے لئے قضا و قدر کا قانون ہے کہ وہ بدی کر ہی نہیں سکتے اور ایک زمین پر انسانوں کے لئے خدا کے قضاء و قدر کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ آسمان سے اُن کو بدی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے مگر جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کریں تو روح القدس کی تائید سے ان کی کمزوری دور ہو سکتی ہے اور وہ گناہ کے ارتکاب سے بچ سکتے ہیں جیسا کہ خدا کے نبی اور رسول بیچتے ہیں اور اگر ایسے لوگ ہیں کہ گنہگار ہو چکے ہیں تو استغفار اُن کو یہ فائدہ پہنچاتا ہے کہ گناہ کے نتائج سے یعنی عذاب سے بچائے جاتے ہیں کیونکہ نور کے آنے سے ظلمت باقی نہیں رہ سکتی۔اور جرائم پیشہ جو استغفار نہیں کرتے یعنی خدا سے طاقت نہیں مانگتے وہ اپنے جرائم کی سزا پاتے رہتے ہیں۔“ کشی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۴)