صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 224
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۲۴ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء بِالْحَصَا فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ عَجِبْتُ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ حضرت مِنْ ضَحِكِهِ وَقَدْ عَرَفَ مَا قُلْتُ لَقَدْ عبد الله کھڑے ہو گئے اور ان کے ساتھی اِدھر أُنْزِلَ النِفَاقُ عَلَى قَوْمٍ كَانُوا خَيْرًا اُدھر چلے گئے۔ حضرت حذیفہ نے میری طرف مِنْكُمْ ثُمَّ تَابُوا فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ۔ کنکری پھینک کر مجھے بلایا۔ میں ان کے پاس آیا۔ حضرت حذیفہ کہنے لگے: مجھے ان کی نہی سے تعجب ہوا حالانکہ وہ خوب سمجھ گئے (انہیں) جو میں نے کہا ہے کہ نفاق کا وبال تو ایسے لوگوں پر بھی پڑا جو تم سے بہتر تھے۔ پھر انہوں نے توبہ کی اور اللہ نے بھی رحم کیا۔ تشريح : إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ : عنوان باب میں حضرت ابن عباس کے جس قول کا حوالہ دیا گیا ہے کہ دوزخ کے سب سے نچلے حصہ میں ایک سرنگ ہے جو منافقین کے لئے مخصوص ہے۔ یہ ابن ابی حاتم نے ہی ان سے بواسطہ ابن جریج بسند عطاء نقل کیا ہے ۔ نفقا کا لفظ سورہ انعام کی آیت ۳۶ میں آیا ہے۔ فرماتا ہے : وَاِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِي نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَمَا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجِهِلِينَ ) ترجمہ : اور اگر ان (یعنی کافروں) کی رو گردانی تجھ پر گراں گزرتی ہے تو اگر تجھ میں طاقت ہے کہ زمین میں کسی سرنگ کی یا آسمان کی طرف کسی سیڑھی کی تلاش کر سکے (اور) پھر اُن کے لئے کوئی نشان لا سکے۔ (تو بے شک ایسا کر) اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو ضرور ہدایت پر جمع کر دیتا۔ پس تو ناواقفوں میں سے ہر گز نہ بن۔ علماء کا کہنا ہے کہ منافق کو کافر سے بھی زیادہ سخت سزا ملے گی کیونکہ وہ دین سے متعلق استہزا کرتا ہے۔ اور لفظ نفقا سے نفاق اور منافق کے اشتقاق کی طرف اشارہ ہے۔ اس سے النافقاء بھی اسم آتا ہے جس کے معنی گوہ یا چھچھوندر کے بل کے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۳۶) منافق بھی در حقیقت عقائد دینیہ کا چھپا دشمن ہے۔ دین و ایمان کی بنیادیں کھوکھلی کر دیتا ہے۔ اس لئے سزا بھی اس کے عمل سے ہم مثل ہو گی۔ لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقُ عَلَى قَوْمٍ أَى ابْتُلُوا بِهِ: یعنی تم سے اچھے لوگ بھی مرض نفاق میں مبتلا ہوئے تھے اور جب توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا۔ حضرت حذیفہ بن یمان نے ان کی باتیں سن کر کہا کہ نفس سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ اس سے بچنا کارے دارد ہے۔ شیطان باریک راہوں سے آتا اور انسان کو اپنے نفس سے متعلق فریب دیتا ہے جس سے وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ بڑا پار سا ہے۔ اعمال کا دار ومدار خاتمہ پر ہے۔ نفس میں انقلاب آتے دیر نہیں لگتی۔ حضرت حذیفہ کا اشارہ بعض صحابہ کی طرف تھا، جنہیں آخر اللہ تعالی نے توبۃ النصوح کی توفیق دی۔