صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 223
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۲۳ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء كَالمُعلقة : اگلی آیت میں آیا ہے، پوری آیت یہ ہے: وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُم فَلَا تَمِيلُوا كُلَ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء : ١٣٠) ترجمہ : اور خواہ تم (عدل کرنے کی کتنی بھی خواہش کرو ( تو بھی) تم عورتوں کے درمیان عدل نہیں کر سکتے۔پس تم بالکل ایک ہی کی طرف نہ جھک جاؤ۔(جس کا نتیجہ یہ ہو) کہ اس (دوسری) کو ( درمیان میں) لٹکتی ہوئی (چیز) کی مانند چھوڑ دو اور اگر تم (آپس میں) موافقت پیدا کر و اور تقویٰ اختیار کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ یقیناً بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔روایت نمبر ۴۶۰۱ کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۴۵۷۳ زیر باب ا۔روایت کے الفاظ میں فرق ہے، گو مفہوم ایک ہی ہے۔محمد بن مقاتل نے حضرت ابن عباس سے بھی ایک روایت انہی معنوں میں نقل کی ہے۔دیکھئے روایت نمبر ۴۵۷۹ زیر باب ۶۔باب ٢٥: إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّارُكِ الْاَسْفَلِ { مِنَ النَّارِ } (النساء : ١٤٦) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) یعنی منافق آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْفَلَ النَّارِ نَفَقًا سَرَبًا۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: آگ کے نیچے ایک لمبی سرنگ ہے۔٤٦٠٢ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۳۶۰۲ عمر بن حفص نے ہمیں بتایا کہ میرے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ باپ ( حفص بن غیاث) نے بیان کیا کہ اعمش حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ كُنَّا نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: ابراہیم (شخصی) نے فِي حَلْقَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَجَاءَ حُذَيْفَةً حَتَّى مجھے بتایا کہ اسود بن یزید) سے روایت ہے۔قَامَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ أُنْزِلَ انہوں نے کہا: ہم حضرت عبد اللہ بن مسعود) النِّفَاقُ عَلَى قَوْمٍ خَيْرِ مِنْكُمْ قَالَ کی مجلس میں تھے کہ اتنے میں حضرت حذیفہ الْأَسْوَدُ سُبْحَانَ اللهِ إِنَّ اللهَ يَقُولُ ( بن یمان ) ہمارے پاس آکر کھڑے ہوئے اور ہمیں السلام علیکم کہا۔پھر کہنے لگے: نفاق کا وبال اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ تو ایسے لوگوں پر بھی پڑا جو تم سے بہتر تھے۔اسود النَّارِ (النساء : ١٤٦) فَتَبَسَّمَ عَبْدُ اللهِ نے کہا: سبحان اللہ۔اللہ تو فرماتا ہے کہ منافق آگ وَجَلَسَ حُذَيْفَةُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔حضرت فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَتَفَرَّقَ أَصْحَابُهُ فَرَمَانِي عبدالله بن مسعود) مسکرائے، اور حضرت حذیفہ 1 یہ الفاظ ابوذر کے نسخہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۳۶)