صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 222
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۲۲ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء وَلَا ذَاتُ زَوْجِ۔نُشُورًا (النساء: ۱۲۹) الشُّخَ سے متعلق فرمایا کہ الشیخ سے مراد کسی چیز کی حرص جو کرتا ہے، اس کا لالچ کرتا ہے۔كَالمُعلقة جو فرمایا تو اس سے یہ مراد ہے کہ نہ وہ بُغْضًا۔رَضِيَ بیوہ ہے نہ خاوند والی۔نشوز کے معنی ہیں بغض۔٤٦٠١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ :۴۶۰۱: محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ ہشام عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ الله بن عروہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ عَنْهَا وَاِنِ امْرَاةُ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا ہے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آیت وَ اِنِ امْرَاةُ خَافَتُ یعنی نُشُورًا أو إعْرَاضًا (النساء:۱۲۹) قَالَتْ اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سے نفرت الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ لَيْسَ يَا رُوگردانی کا خوف کرے۔فرماتی تھیں: کسی شخص بِمُسْتَكْثِرٍ مِّنْهَا يُرِيدُ أَنْ يُفَارِقَهَا کے پاس کوئی عورت ہو جس سے وہ بہت میل فَتَقُولُ أَجْعَلُكَ مِنْ شَأْنِي فِي حِلّ جول نہ رکھتا ہو ، چاہتا ہو کہ اس کو چھوڑ دے اور وہ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ۔عورت کہے کہ میں تم کو اپنے حق سے آزاد کرتی ہوں تو یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی۔تشريح : وَإِنِ امْرَاةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا: صحیح بخاری کے تمام نا سفین کے نزدیک اس آیت کا تعلق سابقہ باب کے ساتھ ہی ہے اور بغیر باب کے ہے۔سورہ نساء میں أطرافه: ٢٤٥٠، ٢٦٩٤، ٥٢٠٦ - باب ۲۳، ۲۴ کی دونوں آیتیں مسلسل ہیں۔پوری آیت یہ ہے : وَ اِنِ امْرَاةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُورًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحَا- وَالصُّلْحُ خَيْرُ - وَأَحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَ تَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ( النساء: ۱۲۹) اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے بد معاملگی یا عدم توجہی کا اندیشہ ہو تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ کسی طریق پر آپس میں صلح کر لیں اور صلح (سب سے) بہتر ہے اور (لوگوں کے ) نفسوں میں بخل ( کا خیال) پیدا کر دیا گیا ہے اور اگر تم نیک کام کرو اور تقوی اختیار کرو تو ( یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ یقیناً آگاہ ہے۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ شِقَاقُ تَفَاسُدُ : شِقَاقَ (پھوٹ) کے معنی تفاسد ( بگاڑ ) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں۔اسی طرح وَأحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّح بمعنى طمع و حرص اور نشوز بمعنی بغض بھی انہی سے مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۳۵)