صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 219 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 219

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۱۹ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء روایت زیر باب میں مُسْتَضْعَفِین سے دفاع و حمایت کی ایک صورت آنحضرت صلی الم کے اسوہ حسنہ سے بتائی گئی ہے کہ آپ نے بذریعہ دعا انہیں نجات دلائی اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا۔اس واقعہ سے آیت عسکی اللهُ أَنْ يَعْفُو عَنْهُمْ کی تشریح بھی واضح ہو جاتی ہے اور اس سے عفو الہی کی ایک نوعیت کا علم ہوتا ہے کہ وہ کس طرح دعائیں قبول فرما کر عاجزوں کی نجات کے لئے غیب سے غیر معمولی سامان پیدا کر دیتا ہے۔بَاب ۲۲ : وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُم مَّرْضَى اَنْ تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُم (النساء : ١٠٣) اور اگر بارش کی وجہ سے تمہیں تکلیف ہو یا تم مریض ہو تو اپنے ہتھیار اُتار دینے پر تمہیں کوئی گناہ نہ ہو گا ٤٥٩٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۴۵۹۹: ابوالحسن محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ کیا کہ حجاج ( بن محمد اعور ) نے ہمیں بتایا۔انہوں جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى عَنْ سَعِيدِ نے ابن جریج سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ اللہ مجھے یعلی نے بتایا۔انہوں نے سعید بن جبیر سے، بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ عَنْهُمَا إِنْ كَانَ بِكُمُ أَذًى مِنْ قَطَرٍ سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے او كُنتُم مَّرْضَى (النساء : ۱۰۳) قَالَ: آیت إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ قَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مرضی سے متعلق روایت کی۔انہوں نے کہا: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ جَرِيحًا۔یہ حضرت عبدالرحمن بن عوفٹ تھے ، جو زخمی تھے۔تشريح : وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى من قطر : اس آیت میں مجاہدین کو حکم ہے کہ میدان جنگ میں بحالت نماز ہتھیار بند رہیں اور اس حکم میں بھی ایک استثناء کا ذکر ہے کہ بوجہ بارش یا بیماری تکلیف محسوس ہو تو احتیاطی تدبیر اختیار کرتے ہوئے ہتھیار اُتار اجاسکتا ہے۔امام بخاری ان ابواب سے یہ ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ احکام کے ساتھ ساتھ استثنائی صورتوں سے متعلق وحی ہوتی رہی۔قطع نظر اس سے کہ ان کے لئے کوئی محرک ہوا ہو۔اور زیر باب روایت سے یہ مثال بھی پیش کی گئی ہے کہ راوی اپنی روایت میں اختصار ملحوظ رکھتے تھے اور کسی تعلق میں دوسرے صحابی کے قول کا بھی حوالہ دے دیا جاتا تھا۔اس روایت میں غایت درجہ اختصار ہے۔یہاں تک کہ شارحین کو جملہ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن عَوْفٍ وَكَانَ جَرِيحًا کے سمجھنے میں مشکل پیش ا ترجمه مضرت خلیفة المسیح الرابع : ”اگر تمہیں بارش کی وجہ سے کوئی مشکل ہو یا تم بیمار ہو۔“