صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 218
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۱۸ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء باب ۲۱ فَأُولَيكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَعْفُو عَنْهُمْ وَ لهُ أَنْ يَعْفُو عَنْهُمْ وَكَانَ اللهُ عَفُوًا غَفُورًا (النساء : ١٠٠) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) ہو سکتا ہے کہ اللہ ان سے درگزر کرے اور اللہ بڑا ہی در گزر کرنے والا ہے اور پر دہ پوشی کرنے والا ہے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز ٤598: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۴۵۹۸: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ہمیں بتایا۔ انہوں نے يحي ( بن ابی کثیر ) سے ، يحي وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذْ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ پڑھا رہے تھے کہ آپ نے سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ اللَّهُمَّ نَجِّ کہا۔ پھر سجدہ کرنے سے پہلے یوں دعا کی: اے اللہ ! عَيَّاسَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ عياش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ ! سلمہ بْنَ هِشَامِ اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ ! ولید بن ولید کو اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ نجات دے۔ اے اللہ ! مومنوں میں سے جو کمزور اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطَأَتَكَ عَلَى مُضَرَ سمجھے جاتے ہیں ان کو نجات دے۔ اے اللہ ! مصر کو سختی سے لتاڑ۔ اے اللہ ! ان کے سالوں کو ویسے اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ۔ ہی کر دے جیسے یوسف کے سال۔ أطرافه: ۷۹۷ ، ۸۰، ۱۰۰۹ ، ۲۹۳۲ ، ٣٣٨٦، ٤٥٦٠ ، ٦٢٠٠ ، ٦٣٩٣ ، ٦٩٤٠ - تشريح : فَأُولَيكَ عَسَى اللهُ أَنْ يَعْفُو عَنْهُمْ : صیح بخاری کے صحیح بخاری کے اس باب میں بعض نسخوں کی اصلاح مد نظر ہے۔ جن میں اس طرح مذکور ہے : فَعَسَى اللهُ أَنْ يَعْفُو عَنْهُمْ ، وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا، جو درست نہیں۔ کیونکہ محولہ آیت میں یہ الفاظ ہیں : فَأُولَئِكَ عَسَى اللهُ أَنْ يَعْفُو عَنْهُمْ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًا غَفُورًا (النساء : ۱۰۰) کے امام ابن حجر نے مذکورہ بالا تنقیح نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ انہیں اس قراءت کے متعلق کوئی روایت نہیں ملی۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۳۳) ا نسخہ یونینیہ میں الفاظ " عن أبی ھریرة “ ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۳۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ ترجمه حضرت ت خلیفة المسیح الرابع : " پس یہی وہ لوگ ہیں ، بعید نہیں کہ اللہ ان سے در گزر کہ ان سے درگزر کرے اور اللہ بہت درگزر کرنے والا (اور) بہت بخشنے والا ہے۔“