صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 217 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 217

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۱۷ ۶۵ - كتاب التفسير / النساء ہو۔اس حکم میں بھی آیت الا الْمُسْتَضْعَفِينَ سے بے بس لوگوں کی استثناء کی گئی ہے۔اس سے اگلی آیت یہ ہے: إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيْلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلاً (النساء : ٩٩) ہاں وہ لوگ جو مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے فی الواقع کمزور تھے (اور) وہ کسی تدبیر کی طاقت نہ رکھتے تھے اور نہ کوئی راہ انہیں نظر آتی تھی۔بَاب ٢٠ : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيْلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا ( النساء: ٩٩) اللہ تعالیٰ کا فرمانا ) ہاں وہ لوگ جو مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے فی الواقع کمزور تھے (اور) وہ کسی تدبیر کی طاقت نہ رکھتے تھے اور نہ کوئی راہ انہیں نظر آتی تھی ٤٥٩٧ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۴۵۹۷: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد ( بن حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ زيد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب (سختیانی) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَّا سے ، ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی المُسْتَضْعَفِينَ (النساء : ٩٩) قَالَ كَانَتْ کہ انہوں نے آیت إِلا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ پڑھ کر کہا: أُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللهُ۔أطرافه ١٣٥٧، ٤٥٨٧ ٤٥٨٨۔ریح: میری ماں بھی ان لوگوں میں سے تھی جن کو اللہ نے معذور قرار دیا۔الا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ: اس آیت سے ظاہر ہے کہ کمزور لوگ بحالت معذوری ہجرت سے مستقلی کئے اور قابل رحم و عفو ٹھہرائے گئے ، جیسا کہ سابقہ باب کی آیات میں جہاد میں نہ شریک ہو سکنے والے معذور لوگ۔اس تعلق میں باب نمبر ۱۴ کی تشریح بھی دیکھئے ، جہاں حضرت ابن عباس کے حوالہ سے اسی آیت کا ذکر ہے۔ایسے بے بس اور معذور لوگوں سے مدافعت اور ان کی حمایت کا بھی حکم ہے۔ان کا اُن منافقین سے کچھ بھی تعلق نہیں جن کا ذکر سورۃ آل عمران میں ان الفاظ میں ملتا ہے: وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لَا اتَّبَعْنَكُمْ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَين اَقْرَبُ مِنْهُمُ لِلْإِيْمَانِ : يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ وَاللهُ اَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ ) ( آل عمران: ۱۶۸) یعنی اور اُن ( منافقوں) سے کہا گیا تھا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور (دشمن کے حملہ کو ) روکو (جس پر انہوں نے کہا کہ اگر ہم جنگ کرنا جانتے تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔وہ (لوگ) اس دن ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے۔وہ اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہتے تھے جو ان کے دلوں میں نہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللہ اسے سب سے زیادہ جانتا ہے۔اس تعلق میں سورۃ الحج آیات ۳۹ تا ۴ بھی دیکھئے۔