صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 2 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 2

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الفاتحة ہے اور جس کتاب کی شرح اس وقت زیر نظر ہے اس تعلق میں یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ امام بخاری نے اپنی جامع مسند صحیح میں کتاب التفسیر کا اضافہ کر کے امت اسلامیہ پر بے بہا احسان کیا ہے۔تیسری صدی ہجری کے اوائل میں سولہ سال کی جانکاہ محنت کے بعد چھ لاکھ روایتوں میں سے صرف سات ہزار دو سو پچھتر صحیح احادیث کا انتخاب کر کے انہیں مختصر عناوین کے تحت ابواب میں مقفل و محفوظ کر دیا ہے اور ان ابواب کے ساتھ ان کے کھولنے کی کلیدیں بھی ہمارے لئے مہیا کر دیں۔اس طرح آپ نے خاموشی سے قرآنِ مجید کتاب اللہ الحکیم کی تفسیریں جو نا اہل لوگوں نے لاکھوں کمزور روایتوں کی بناء پر لکھیں، ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔آپ کی کتاب التفسیر کا زیادہ تر تعلق منقولات کی صحت و ستم سے ہے۔اس میں مذاہب فقہی سے متعلق اپنے اجتہاد سے حسب معمول جرح و قدح سے بھی کام لیا ہے۔جیسا کہ دورانِ شرح بتایا جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ القیامہ میں قرآنِ حکیم کے بارے میں دو باتوں کی صراحت فرمائی ہے۔ایک اس کی ترتیب قرآت اور دوسرا اس کا بیان۔فرماتا ہے: لَا تُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ به إِنَّ عَلَيْنَا جَمُعَةَ وَ قُرانَهُ ، فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبِعْ قُرانَهُ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيانكة (القيامة: ۱۷ تا ۲۰) ترجمه: (اے نبی !) تو اپنی زبان کو حرکت نہ دے، تاکہ یہ قرآن جلدی نازل ہو جائے۔اس کا جمع کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے اور اس کا دنیا کے سامنے سنانا بھی (ہمارے ذمہ ہے۔) پس جب ہم اسے پڑھ لیا کریں تو ہمارے پڑھنے کے بعد تو بھی پڑھ لیا کر اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو تیری زبان سے لوگوں کو کھول کر سنادیں۔(تفسیر صغیر) ان آیات سے ظاہر ہے کہ قرآنِ مجید کی لفظی حفاظت اور اس کے معانی کا بیان دو مختلف وعدے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جن کا پورا کرنا اپنے ذمہ لیا ہے۔سو یہ وعدے پورے ہوئے۔پہلا وعدہ حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان کے عہد خلافت میں ان کے ساتھی کارکنوں کے ذریعہ پورا ہوا۔اور دوسرا وعدہ ائمہ و مسجد دین وقت کے ذریعہ جن پر وقت کی ضرورت کے مطابق حقائق و معارف قرآن سے متعلق انکشاف ہو تا چلا گیا۔جیسا کہ ہم اپنے زمانہ میں دیکھتے ہیں کہ نا اہل مفسروں کی غلطی کی وجہ سے کس طرح عقیدہ حیات مسیح اور جسد عنصری کے ساتھ رفع عیسی علیہ السلام وجود میں آیا۔آخر اس کی حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بینات قرآن مجید کی روشنی میں واضح سے واضح تر ہو گئی۔یہاں تک کہ علماء و دانشمندان اسلام و غیر اسلام اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔بیسیوں مثالوں میں سے صرف ایک مثال کا ذکر کیا جاتا ہے کہ قرآن کی لفظی حفاظت کا جو وعدہ تھا، وہ ابتدائو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و خلفائے راشدین کے عہد میں پورا ہوا اور قراءت کے قواعد اور الفاظ کی فصاحت و بلاغت سے متعلق انکشاف علامہ زمخشری جیسے اعلیٰ پایہ محققین کے ذریعہ ہوا اور بیان قرآن حکیم سے متعلق وعدہ الہی کا زمانہ تا قیامت ممتد ہے۔کیونکہ یہ کتاب بنی نوع انسان کے لئے کامل ہدایت کی جامع ہے۔اس مختصر تمہید کے بعد صحیح بخاری کی کتاب التفسیر شروع کی جاتی ہے۔(هدى السارى مقدمة فتح البارى، الفصل العاشر فى عد أحاديث الجامع، صفحه ۶۵۴