صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 2
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الفاتحة ہے اور جس کتاب کی شرح اس وقت زیر نظر ہے اس تعلق میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امام بخاری نے اپنی جامع مسند صحیح میں کتاب التفسیر کا اضافہ کر کے امت اسلامیہ پر بے بہا احسان کیا ہے۔ تیسری صدی ہجری کے اوائل میں سولہ سال کی جانکاہ محنت کے بعد چھ چھا لاکھ روایتوں میں ۔ سے صرف سات ہزار دو سو سو " پچھتر صحیح احادیث کا کا انتخار انتخاب کر کے انہیں مختصر عناوین کے تحت ابواب میں مقفل و محفوظ کر دیا ہے اور ان ابواب کے ساتھ ان کے کھولنے کی کلیدیں بھی ہمارے لئے مہیا کر دیں۔ اس طرح آپ نے خاموشی سے قرآن مجید کتاب اللہ الحکیم کی تفسیریں جو نا اہل لوگوں نے لاکھوں کمزور روایتوں کی بناء پر لکھیں، رڈی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔ آپ کی کتاب التفسیر کا زیادہ تر تعلق منقولات کی صحت و سقم سے ہے۔ اس میں مذاہب فقہی سے متعلق اپنے اجتہاد سے حسب معمول جرح و قدح سے بھی کام لیا ہے۔ جیسا کہ دورانِ شرح بتایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ القیامہ میں قرآن حکیم کے بارے میں دو باتوں کی صراحت فرمائی ہے۔ ایک اس کی ترتیب قرآت اور دوسرا اس کا بیان۔ فرماتا ہے: لَا تُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرْآنَهُ ، فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ ، ثُمَّ إِنَّ أنْهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ) ( القيامة : ٧ ا ت نامة: ۱۷ تا ۲۰) ترجمہ : (اے نبی !) تو اپنی زبان کو حرکت نہ دے، تا کہ یہ قرآن جلدی نازل ہو جائے۔ اس کا جمع کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے اور اس کا دنیا کے سامنے سنانا بھی (ہمارے ذمہ ہے۔) پس جب ہم اسے پڑھ لیا کریں تو ہمارے پڑھنے کے بعد تو بھی پڑھ لیا کر اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو تیری زبان سے لوگوں کو کھول کر سنا دیں۔ (تفسیر صغیر) ان آیات سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی لفظی حفاظت اور اس کے معانی کا بیان دو مختلف وعدے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن کا پورا کرنا اپنے ذمہ لیا ہے۔ سو یہ وعدے پورے ہوئے۔ پہلا وعدہ حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان کے عہد خلافت میں ان کے ساتھی کارکنوں کے ذریعہ پورا ہوا۔ اور دوسرا وعدہ آئمہ و مجد دین وقت کے ذریعہ جن پر وقت کی ضرورت کے مطابق حقائق و معارف قرآن سے متعلق انکشاف ہوتا چلا گیا۔ جیسا کہ ہم اپنے زمانہ میں دیکھتے کہ نا اہل مفسروں کی غلطی کی وجہ سے کس طرح عقیدہ حیات مسیح اور اور جسد عصری کے ساتھ رہا ساتھ رفع عیسی علیہ السلام وجود میں آیا۔ آخر اس کی حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بینات قرآن مجید کی روشنی میں واضح سے واضح تر ہو گئی۔ یہاں تک کہ علماء و دانشمندان اسلام و غیر اسلام اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ بیسیوں مثالوں میں سے صرف ایک مثال کا ذکر کیا جاتا ہے کہ قرآن کی لفظی حفاظت کا جو وعدہ تھا، وہ ابتداء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و خلفائے راشدین کے عہد میں پورا ہوا اور قراءت کے قواعد اور الفاظ کی فصاحت و بلاغت سے متعلق انکشاف علامہ زمخشری جیسے اعلیٰ پایہ محققین کے ذریعہ ہوا اور بیان قرآن حکیم سے متعلق وعدہ الہی کا زمانہ تا قیامت ممتد ہے۔ کیونکہ یہ کتاب بنی نوع انسان کے لئے کامل ہدایت کی جامع ہے۔ اس مختصر تمہید کے بعد صحیح بخاری کی ہیں کتاب التفسیر شروع کی جاتی ہے۔ ا۔ (هدى السارى مقدمة فتح البارى، الفصل العاشر فى عد أحاديث الجامع، صفحه (۶۵۴)