صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 1
صحيح البخاری جلد ۱۰ الله الوالحين ٦٥ - كِتَابُ التَّفْسِيرِ ۶۵ - کتاب التفسير / الفاتحة امام بخاری کی یہ کتاب ان معنوں میں تفسیر نہیں جو آج کل معروف ہیں اور جن سے ہمارے ذہن مانوس ہیں۔بلکہ زیادہ تر اس کا تعلق اس تفسیر سے ہے جس کا مدار منقولہ روایات و آثار پر ہے۔جن کے نقل کرنے میں بقول ابن خلدون متقدمین نے تحقیق و تدقیق سے کام نہیں لیا۔جو انہیں پہنچا انہوں نے قلم بند کر لیا۔ان متقدمین میں طبری، واقدی اور ثعالبی پیش رو ہیں۔اس کے بعد دوسرا دور آیا جب علماء نے منقولہ روایات کو تحقیق و تفتیش کی کسوٹی پر پرکھا اور حق و باطل اور معقول و نا معقول میں تمیز کی اور آثار و روایات کو ناقدانہ نظر سے دیکھا۔ان میں سے باوثوق کو الگ کر کے پیش کیا۔ان محققین میں سے ابو محمد بن عطیہ مغربی اور قرطبی " کا نام سر ورق آتا ہے اور وہ اس فن میں پیش رو ہیں۔قرآنِ کریم کے معانی و حقائق کی معرفت کے لئے جہاں لغت عرب، کلام عربی کے مخصوص اسلوب، قواعد نحو و صرف اور اس کی فصاحت و بلاغت کا علم ضروری ہے ، وہاں متعلقہ واقعات و حادثات کے تاریخی پس منظر سے واقفیت بھی لازمی ہے۔اس جہت سے علامہ زمخشری کی مایہ ناز تفسیر کشاف قابل ذکر ہے۔محققین اہل سنت کو بھی باوجود انہیں معتزلی سمجھنے کے اس کتاب کی قدر و منزلت کا اقرار ہے اور نفس زبان و بلاغت کی حیثیت سے اس کا درجہ تمام دیگر تفاسیر متقدمین میں اس قدر بلند ہے کہ علماء اہل سنت میں سے علامہ شرف الدین طیبی عراقی کو اپنی تفسیر میں ان کا تتبع کرنے سے چارہ نہیں رہا۔تاہم جہاں انہیں معتزلہ کے عقیدے کا اثر محسوس ہوا، دلائل سے اسے رد کیا۔امام ابن خلدون کے نزدیک علامہ طیبی نے تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے۔۔امام بخاری کا مرتبہ محدثین میں بہت ہی بلند اور مسلم ہے۔علامہ ابن خلدون کی رائے میں ان کی کتاب صحیح بخاری ! کی شرح کماحقہ نہیں ہوئی اور اس کی گہرائیوں تک رسائی نہیں ہو سکی۔ان کے نزدیک ابن بطال، ابن مہلب اور ابن التین کی شرحیں نامکمل ہیں اور وہ اپنے اساتذہ کے حوالے سے رقمطراز ہیں کہ اس کی شرح کا بوجھ اُن کے وقت تک امت کے کندھوں پر ہے اور ایک واجب الادا قرض ہے جو اس سے ساقط نہیں ہوا اور اس وقت تک جو شرحیں لکھی گئی ہیں وہ شرح کہلانے کی مستحق نہیں۔۲ علامه ابن خلدون کا زمانہ آٹھویں صدی ہجری کا ہے۔ان کے بعد علامہ ابن حجر نے صحیح بخاری کی شرح اور سابقہ شارحین کی کمی کا تدارک کیا۔اس وقت تک جتنی شرحیں لکھی گئی ہیں، ان میں شرح فتح الباری بہترین شرح ہے۔علامہ عینی نے ان کا تتبع کیا ہے۔دونوں شرحیں قابل قدر ہیں۔صحیح بخاری کی شرح لکھتے وقت میں نے انہی سے مددلی (تاریخ ابن خلدون، الباب السادس من الكتاب الأول الفصل الخامس فى علوم القرآن، جزء اول صفحه ۵۵۴-۵۵۶) (تاریخ ابن خلدون، الباب السادس من الكتاب الأول فى العلوم، الفصل السادس في علوم الحدیث، جزء اول صفحہ ۵۶۰)