صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 216
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۱۶ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَغَيْرُهُ قَالَا که حیوه بن شریح) اور ان کے علاوہ ایک اور حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو شخص نے ہمیں بتایا۔ ان دونوں نے کہا: محمد بن الْأَسْوَدِ قَالَ قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ عبد الرحمن ابوالاسود (اسدی) نے ہم سے بیان بَعْثُ فَاكْتُتِبْتُ فِيهِ فَلَقِيتُ عِكْرِمَةَ کیا، کہا: مدینہ والوں کے متعلق بھی (اہل شام کے مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَنَهَانِي مقابل) ایک فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فوج رحم عَنْ ذَلِكَ أَشَدُّ النَّهْي ثُمَّ قَالَ میں میرا نام بھی لکھا گیا۔ میں حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام عکرمہ سے ملا اور میں نے ان کو أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ نَاسًا مِنَ بتایا۔ انہوں نے مجھے سختی سے روکا کہ اس میں شامل الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ نہ ہوں۔ پھر انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس يُكَفِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَی نے مجھے بتایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکوں رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي کے ساتھ ہو جاتے تھے ، وہ رسول اللہ صلی علیم کے السَّهْمُ يُرْمَى بِهِ فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ خلاف مشرکوں کی تعداد بڑھاتے تھے۔ لڑائی میں فَيَقْتُلُهُ أَوْ يُضْرَبُ فَيُقْتَلُ فَأَنْزَلَ اللهُ تیر جو مارا جاتا وہ آتا اور ان میں سے کسی کو لگتا اور إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّهُمُ الْمَلائِكَةُ ظَالِمِی اس کو مار ڈالتا یا تلوار ماری جاتی اور وہ اس سے قتل انْفُسِهِمُ (النساء : ٩٨) الْآيَةَ۔ رَوَاهُ ہو جاتا۔ اس لئے اللہ نے یہ آیت نازل کی: ملائکہ اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ۔ طرفه ٧٠٨٥ - نے جن کو ایسی حالت میں وفات دی کہ وہ اپنے ں پر ظلم کرنے والے تھے۔ لیث نے یہ بات نفسوں ابوالا سود سے روایت کی۔ تشريح : إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّهُمُ الْمَلَيكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ : روایت زیر باب کا تعلق حضرت عبداللہ بن زبیر کے عہد خلافت سے ہے۔ جب ان کی اور یزید بن معاویہ کی ٹھن گئی تھی تو مدینہ سے بھی اہل شام کے مقابلہ کی غرض سے فوج تیار کرنے کا حکم ہوا۔ یہ واقعہ ۶۴ ، ۶۵ ھ کا ہے اور تاریخ اسلام میں مشہور ہے۔ اس روایت کے راوی عروہ بن زبیر کے زیر کفالت یتیم تھے۔ ان کا نام فوج کی بھرتی میں لکھا گیا تو عکرمہ ، حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام نے انہیں جنگ میں شریک ہونے سے روکا اور مذکورہ بالا آیت کا حوالہ دیا۔ جس کا مفہوم واضح ہے کہ اگر کسی جگہ ظلم و جبر ہو اور ان کا ر ڈ نہ ہو سکے تو وہاں سے ہجرت کر ناضروری ہو جاتا ہے جو بہتر ہے یہ نسبت اس کے کہ احکام الہی کی خلاف ورزی ہو یا ظالم کا شریک کار بنے اور ناحق خون ریزی میں شامل