صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 215
۲۱۵ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء صحیح البخاری جلد ۱۰ والے قائدین پر بھی اور غزوہ بدر والے قاعدین پر بھی۔جیسا کہ ابن التین نے جو پایہ کے عالم ہیں بایں الفاظ صراحت کی ہے کہ حضرت ابن عباس کی روایت نمبر ۴۵۹۵ حضرت سہل بن سعد اور حضرت براء بن عازب کی روایتوں کے مخالف نہیں۔الْقُرْآنُ يَنْزِلُ فِي الشَّيْء وَيَشْتَمِلُ عَلَى مَا فِي مَعْنَاهُ۔قرآن مجید ایک خاص بات کے بارے میں نازل ہوتا ہے اور وہ ہر اس امر پر شامل ہوتا ہے ، جو نو عیت میں اس جیسا ہو۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۳۰) باب ۱۸ کی آخری روایت نمبر ۴۵۹۵ سے یہی امر ذہن نشین کرانا مقصود معلوم ہوتا ہے کہ شان نزول کے بارے میں مروان وغیرہ کی روایت پر اعتماد کرنا اور اسے ایک خاص واقعہ سے مخصوص رکھنا درست نہیں۔یہ امر کہ امام بخاری نے مروان والی روایت قبول کیوں کی۔باعتبار سند جو اس میں خامی ہے وہ متعد د سندوں سے مروی ہونے کی وجہ سے قابل رڈ نہیں ہو سکتی۔اور یہ امر بھی متعد دسندوں سے ثابت شدہ ہے کہ الفاظ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وحی الہی کی تجلی سے ظاہر ہوئے تھے۔عنوان باب میں امام موصوف نے مختصر حوالہ سے سارا سیاق کلام مکمل آیت قرار دیا ہے۔ایسی روایتوں سے متعلق جو بظاہر نص صریح کے خلاف ہوں اور وہ کسی توجیہہ و تاویل کی متحمل نہ ہو سکیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فتویٰ ہے کہ وہ قابل التفات نہیں۔آپ تذکرۃ الشہادتین میں فرماتے ہیں: ”اے میری عزیز جماعت ایقیناً سمجھو کہ زمانہ اپنے آخر کو پہنچ گیا ہے اور ایک۔صریح انقلاب نمودار ہو گیا ہے۔سو اپنی جانوں کو دھوکہ مت دو اور بہت جلد راستبازی میں کامل ہو جاؤ۔قرآن کریم کو اپنا پیشوا پکڑو اور ہر ایک بات میں اس سے روشنی حاصل کرو اور حدیثوں کو بھی رڈی کی طرح مت پھینکو کہ وہ بڑی کام کی ہیں اور بڑی محنت سے اُن کا ذخیرہ طیار ہوا ہے۔لیکن جب قرآن کے قصوں سے حدیث کا کوئی قصہ مخالف ہو تو ایسی حدیث کو چھوڑ دو تا گمراہی میں نہ پڑو۔“ (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۴) بَاب ۱۹: إِنَّ الَّذِيْنَ تَوَقُهُمُ الْمَلَبِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُم قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فتْهَا جِرُوا فِيهَا ( النساء: ٩٨) الْآيَةَ : اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) ملائکہ نے جن کو ایسی حالت میں وفات دی کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے۔انہوں نے کہا: تم کس حالت میں تھے ؟ انہوں نے جواب دیا: زمین میں ہم کمزور سمجھے جاتے تھے۔ملائکہ نے کہا: کیا اللہ کی زمین فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ ٤٥٩٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ۴۵۹۶: عبد اللہ بن یزید مقری نے ہم سے بیان کیا