صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 214
۲۱۴ ۶۵ - كتاب التفسير / النساء صحیح البخاری جلد ۱۰ اپنی دعاؤں کے ذریعہ سے اور مجاہدین کے اہل بیت اور شہر کی حفاظت و غور و پرداخت وغیرہ خدمت کر کے۔جیسا کہ اسی آیت میں فرمایا ہے : وَكُاً وَعَدَ اللهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ عَلَى الْقَعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًان دَرَجت مِنْهُ وَمَغْفِرَةً وَ رَحْمَةً وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا (النساء : ۹۷،۹۶) اور سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو پیچھے ) بیٹھے رہنے والوں پر (بہت) بڑے اجر کا وعدہ کر کے (ضرور) فضیلت دی ہے۔(اس فضیلت کے معنی ) اس (خدا) کی طرف سے بہت سے درجات اور مغفرت کا ملنا ہے۔اسی طرح حصول رحمت ہے اور اللہ بہت ہی بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔فقره غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ صرف مستثنیٰ نہیں بلکہ بدل بھی ہے القَاعِدُونَ کا، اور بطور وصف اس کے یہ معنی ہیں کہ جہاد میں نہ شریک ہونے والے ایسے لوگ جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے معذور نہیں وہ مجاہدین کے برابر نہیں ہو سکتے۔تینوں طرح کی قرآت مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۲۸) غیر بدل الْقَاعِدُونَ کا اور الْمُؤْمِنِينَ کی صفت اور غیر نصب کے ساتھ بطور استثناء، جیسے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں ہو سکتا ہے۔اس قرآت سے ظاہر ہے کہ شریک جہاد نہ ہونے والوں میں بعض ایسے ہیں جو ثواب جہاد میں مجاہدین کے ساتھ شریک ہیں۔چنانچہ ابن جریج راوی حدیث جو بڑے پایہ کے عالم ہیں انہوں نے اس آیت کی ان الفاظ میں تفسیر بیان کی ہے: أَنَّ الْمُفَضَّلَ عَلَيْهِ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَأَمَّا أُولُو الضَّرَرِ فَمُلْحَقُونَ فِي الْفَضْلِ بِأَهْلِ الْجِهَادِ۔جن قاعدین پر مجاہدین کو فضیلت دی گئی وہ معذوروں کے علاوہ ہیں جو باوجود قدرت جہاد رکھنے کے عمد أشریک جہاد نہیں ہوئے اور معذور لوگ تو ثواب میں مجاہدین کے ساتھ شریک قرار دیئے گئے ہیں۔إِذَا صَدَقَتْ نِيَّاتُهُمْ۔بشر طیکہ وہ اپنی نیتوں میں صادق ہوں۔(فتح الباری ا جزء ۸ صفحه ۳۳۱) کتاب المغازی (باب ۸۱ روایت نمبر (۴۴۲۳) میں حضرت انس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول بیان کیا جاچکا ہے : إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَأَقْوَامًا مَا سِرْتُم مَّسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمُ وَادِيَّا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ۔مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جو بھی سفر کرتے ہو اور جس وادی کو عبور کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔لوگوں نے کہا: یارسول اللہ ! وہ مدینہ میں ہی رہتے ہیں۔آپ نے فرمایا: وہ مدینہ میں رہتے ہیں، عذر نے ان کو روک رکھا ہے۔اس تعلق میں کتاب الجہاد والسیر، باب ۳۵ روایت نمبر ۲۸۳۹ بھی دیکھئے۔مذکورہ بالا تبصرے سے ظاہر ہے کہ آیت کا شان نزول بالکل علیحدہ امر ہے اور جہاد سے متعلق آیات کا سیاق اپنی ذات میں واضح اور مکمل ہے اور حضرت ابن ام مکتوم و غیرہ کی خواہش کا اظہار الگ واقعہ ہے۔بعض وقت راوی دو باتوں کو کسی معنوی تعلق کی وجہ سے اپنی روایت میں اکٹھا بیان کر دیتے ہیں۔ایسی مثالیں پہلے بھی گزر چکی ہیں۔اس تعلق میں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ سورہ نساء ۴، ۵ھ میں غزوہ اُحد کے بعد نازل ہوئی تھی۔جب ستر صحابہ شہید ہونے کی وجہ سے بیواؤں اور یتامی کے حقوق وغیرہ کا سوال پیدا ہوا۔یہ امر حضرت ابن عباس کی مذکورہ بالا روایت کے خلاف نہیں جس میں غزوہ بدر کا ذکر ہے۔کیونکہ یہ امر مسلمہ ہے کہ شان نزول سے مراد تطبیق آیات ہے، اس لئے معنونہ آیت ہر قاعد پر چسپاں ہو سکتی ہے، جو کسی غزوہ میں عمد ا اور بلا عذر شریک جہاد نہ ہو۔غزوہ اُحد