صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 213
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۱۳ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے (وحی) لکھا کرتا تھا اور دوسری میں ہے: إِنِّي فَاعِلٌ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِذْ أُوحِيَ إِلَيْهِ۔۔۔وَغَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ وَوَقَعَ فَيَدُهُ عَلَى فَخِذِ۔۔۔قَالَ زيْدٌ فَلَا وَاللهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا قَط أَثْقَلَ مِن فَخِذِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔(یعنی میں ایک دن نبی عال الم کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا جب آپ کی طرف وحی کی گئی۔آپ پر سکینت طاری ہو گئی۔آپ کی ران میری ران تھی۔حضرت زید کہتے تھے کہ بخدا میں نے نبی صلی علم کی ران سے بوجھل کبھی کوئی چیز نہیں پائی) حضرت براء بن عازب کی دونوں روایتوں میں ہے کہ آیت نازل ہونے پر آپ نے (حضرت زید بن ثابت کو بلایا اور لکھنے کے لئے فرمایا تو اس وقت آپ کے پیچھے حضرت عائکہ کے بیٹے حضرت عمر و ابن ام مکتوم تھے۔انہوں نے عرض کی کہ میں نابینا ہوں تو لَا يَسْتَوِي الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالمُجْهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ۔یعنی مومنوں میں سے بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ( ہو سکتے ) کی جگہ یہ آیت نازل ہوئی: لَا يَسْتَوِي الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالمُجْهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ (النساء : ۹۶) یعنی مومنوں میں سے ایسے بیٹھ رہنے والے جو ضرر رسیدہ نہیں ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے)۔مزید براں حضرت براء بن عازب سے دونوں روایتیں معنون ہیں جو سرسری نظر ڈالنے سے دیکھی جاسکتی ہیں۔مذکورہ بالا تین روایتیں نقل کرنے کے بعد دو سندوں سے حضرت ابن عباس کی روایت نقل کی ہے جس میں صراحت ہے کہ آیت لَا يَسْتَوى الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے والوں اور اس میں شریک ہونے والوں کی نسبت نازل ہوئی تھی۔مروان اور حضرت براء بن عازبے کی روایت میں جو ذکر ہے کہ حضرت ابن ام مکتوم کے عذر کرنے پر ایک اضافہ اسی وقت ہو گیا، یہ بالبداہت درست نہیں۔علاوہ ازیں حضرت سہل بن سعد سے مروان والی روایت (نمبر ۴۵۹۲) ترمذی کے نزدیک مجروح ہے۔صحابی کا ایک ایسے شخص سے جسے صحبت نصیب نہیں ہدایت قبول کرنا معقول نہیں۔خود امام بخاری نے تصریح کی ہے کہ مروان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا نصیب نہیں اور خود مروان سے ثابت ہے کہ جب خلافت کے لئے حضرت ابن عمرؓ کا نام لیا گیا تو انہوں نے کہا: لَيْسَ ابْنِ عُمَرَ بِأَفْقَهُ مِنِى وَلَكِنَّهُ أَسَنُ مِلِي وَكَانَتْ لَهُ مُحْبَةٌ۔یعنی ابن عمرؓ مجھ سے زیادہ سمجھ دار نہیں۔ہاں عمر میں بڑے ہیں اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۲۹،۳۲۸) ان روایتوں پر مجموعی طور پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا شان نزول جو حضرت ابن عباس سے مروی بتایا گیا ہے وہ بطور تطبیق ہے۔کیونکہ غزوہ بدر ۲ھ میں ہوا اور سورہ نساء جس میں مجاہدین کی فضیلت کے بارے میں آیات نازل ہوئیں غزوہ اُحد کے بعد ۴ھ میں نازل ہوئی۔↓ علاوہ ازیں قاعِدِین میں بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو جہاد میں شریک نہ ہو سکنے کے باوجود شریک جہاد ہوں، (مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار ، حدیث زید بن ثابت، جزء ۵ صفحه ۱۸۴) ۲ (مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار ، حدیث زید بن ثابت، جزء ۵ صفحه ۱۹۰)