صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 212
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء ضَرِيرٌ فَنَزَلَتْ مَكَانَهَا لَا يَسْتَوِى يا رسول اللہ ! میں معذور ہوں تو اس کی جگہ یہ الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ اُولی آیت نازل ہوئی۔یعنی مومنوں میں سے ایسے بیٹھے الضّرَرِ وَالمُجْهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ۔رہنے والے جو ضرر رسیدہ نہیں ہیں اور اپنے (النساء : ٩٦) مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد أطرافه: ۲۸۳۱، ٤٥۹۳، ٤٩٩٠ کرنے والے برابر نہیں ( ہو سکتے)۔٤٥٩٥ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۴۵۹۵ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ که هشام نے ان کو بتایا کہ ابن جریج نے ان کو ح۔خبر دی۔وَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اور اسحاق بن منصور ) نے مجھ سے بیان کیا کہ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عبد الرزاق نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں عَبْدُ الْكَرِيم أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ خبر دی۔انہوں نے کہا) عبد الکریم (جزری) اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسِ نے مجھے بتایا کہ عبد اللہ بن حارث کے غلام مقسم اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ لَا يَسْتَوِى نے ان کو خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رَضِيَ الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (النساء: ٩٦) نے ان کو بتایا: مومنوں میں سے بیٹھ رہنے والے برابر نہیں ہو سکتے) سے وہ لوگ مراد عَنْ بَدْرٍ وَالْخَارِجُونَ إِلَى بَدْرٍ۔طرفه: ٣٩٥٤۔ہیں جو غزوہ بدر سے رہ گئے تھے اور وہ جو بدر کے لئے نکلے تھے۔تشريح : لَا يَسْتَوَى الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنين: اس باب کے تحت چار روایتیں ہیں۔ایک حضرت زید بن ثابت کی، دو حضرت براء بن عازب اور ایک حضرت ابن عباس کی۔پہلی روایت جو حضرت سہل بن سعد نے مروان سے سنی ہے، اس کے متعلق ترمذی کی طرف سے یہ اعتراض ہے کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ صحابی ہیں اور مروان تابعی ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں پیدا ہوئے۔لیکن نہ انہیں صحبت نبوی نصیب ہوئی اور نہ سماع کا موقع ملا۔قبیصہ سے بھی اسی کے ہم معنی ایک روایت حضرت زید بن ثابت ہی سے اور دوسری حضرت زید بن ثابت" کے بیٹے خارجہ سے مروی ہے۔پہلی میں ہے: كُنتُ أَكْتُبُ لِرَسُولِ اللهِ